فضل الرحمان کے خواب چکنا چور۔۔۔۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے حکومت کے ساتھ معاملات طے ؟؟؟ سلیم صافی نے مولانا کو دھرنے سے قبل ہی بُری خبر سنا دی

لاہور( نیوز ڈیسک) سینئر تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اس وقت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا مقصد واحد یہ ہے کہ جو لوگ انکے گرفتار کیے جاچکے ہیں انہیں کسی نہ کسی طرح سے جیل سے رہائی دلوائی جائے، اس کے بعد خود کو جیل جانے سے بچایا جائے

، اسی لیے دونوں جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت نہیں کر رہے ۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کمزور حکومت کو مزید کمزور کرنے کے لیے کافی ہوگا، لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ یہ دونوں خود کو بچا لیں اسی لیے یہ مولانا پر آزادی مارچ کی تاریخ کو آگے لیجانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، دونوں چاہتے ہیں جو ببچ گئے انکو کسی طرح بچایا جائے، لیکن اگر دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کا یہ پرانا وطیرہ ہے وہ ہر کام میں پختونوں کو آگے کر دیتی ہے، اسلام آباد دھرنے میں بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملا کہ عمران خان خود تو ورزش کرتے رہے لیکن مار کھانے کے لیے پختون آگے تھے ، پختونوں کا شمار دنیا کی مہذب قوموں میں ہوتا ہے ، انہوں نے کبھی گالم گلوچ سے کام نہیں لیا لیکن عمران خان کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پختونوں کو بھی گلم گلوچ پر لگا دیا ہے۔ سلیم صافی کا کہنا تھا کہ حکومت اپنا تعین ہی درست سمت نہیں کر پارہی ، ہر وزیر، ہر معاملے پر اپنا الگ مؤقف لے کر میدان میں آجاتا ہے ، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کا کتنا اختیار ہے معاملات پر، پہلے عمران خان نے دعوت دی کہ آجائیں میں کنٹینر اور کھانا دونگا، لیکن اب انہی کے وزیر اعلیٰ کہہ رہے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں کو صوبوں سے

گزرنے نہیں دیا جائے گا ، موجودہ حکومت پاکستان کے لیے بد ترین ثابت ہوتی جارہی ہے، ہر ادارہ تباہ حالی کا شکار ہوچکا ہے، کرکٹر اور سنگرز کا یہ کام نہیں ہوتا کہ معاملات یا ملک چلائیں ، یہ لوگ معصوم ہوتے ہیں انہیں چالیں سمجھنے میں دیر لگتی ہے، اب ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی قوم ایک کرکٹ ٹیم ہے ، آج جو کچھ نواز شریف کے ساتھ ہورہا ہے ماضی میں یہی سب بے نظیر کو نکالنے کے لیے ہوا اور اس کام کے لیے نواز شریف کا انتخاب کیا گیا حالنکہ انکا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا۔ عالمی منظر نامے کے حوالے سے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ بورس جانس، ڈونلڈٹرمپ اور نریندر مودی چاہے جتنے بھی برے ہوں لیکن انہوں نے اپنے ملک کی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر کے دکھا دیا ہے، نریندر مودی پر پہلے امریکہ میں پابندی عائد تھی لیکن اننہوں نے اس قدر کامیاب سفارتکاری کی اب وہی مودی ٹرمپ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے گھوم رہے ہیں۔ مولانا کے دھرنے کی فنڈنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ اکثر اس طرح کے دھرنوں کو فنڈنگ گراس روت لیول پر ہوتی ہے، اگر صرف جماعت اسلامی کی فنڈنگ کو دیکھا جائے تو یہ جماعت سب جماعتوں سے امیر دکھائی دیتی ہے، کیونکہ انکے پاس فنڈ جمع کرنے کا ایک نظام موجود ہے جس پر وہ عمل کرتے ہیں، جو رائے میری عمران خان کے دھرنوں کے بارے تھی آج وہی مولانا فضل الرحمان کے دھرنے اور آزادی مارچ کے بارے میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں