امریکی صدر ٹرمپ ہوش و حواس کھو بیٹھے ۔۔۔ آج کل دیگر ممالک کے حکمرانوں کو فون کرکے کیا کچھ کہتے رہتے ہیں ؟ وائٹ ہاؤس انتظامیہ بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئی

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عجیب و غریب بیانات کے باعث خبروں میں رہتے ہیں، عالمی میڈیا میں تازہ انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے غیر ملکی رہنماؤں کو نامناسب اور مضحکہ خیز فون کالز کیں جسکے باعث امریکہ کو شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔صدر ٹرمپ نے سعودی حکام کو کال کے

دوران وعدہ کیا کہ وہ سعودی عرب کو جی 7 میں شمولیت کیلئے مدد فراہم کرینگے ۔ ایک اور کال میں پیرو کے صدر کو یقین دلایا کہ وہ 24 گھنٹے میں انکے ملک کو سی130ہرکولیس فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ فراہم کردینگے ۔ وائٹ ہاؤس ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار ان کالز سن کر ششدر رہ گئے ، یہ کالز شرمندگی کا باعث اور سالہا سال کی محنت پر پانی پھیرنے کے مترادف تھیں۔صدر ٹرمپ کی یوکرائنی ہم منصب کو کال کر کے جوبائیڈن کے بیٹے کیخلاف تحقیقات کیلئے کہنا انتہائی خطرناک تھا، جسکے بعد صدر کی کالز کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یوکرینی ہم منصب کو ٹیلی فون کے معاملے پر مواخذے کی تحریک کا سامناہے ڈیموکریٹک ارکان صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔سپیکر نینسی پلوسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کر دی جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر کو ٹیلی فون کر کے ان پر اپنے سیاسی مخالف جو بائیڈن کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کیلئے دباو ڈالا۔ مزید یہ کہ وائٹ ہاؤس حکام نے صدر ٹرمپ کی گفتگو کو چھپانے کی بھی کوشش کی۔اس کے باوجودبرطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے چین سے مطالبہ کیا کہ جو بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تفتیشی عمل شروع کیا جائے۔ ٹرمپ نے چینی صدر شی جنگ پنگ سے براہ راست مطالبہ نہیں کیا تاہم کہا ہے کہ چین کو تفتیش شروع کرنا چاہیے۔ اس سے قبل ٹرمپ یوکرائنی صدر وولوودومیر زیلنسکی سے بھی سابق امریکی نائب صدر اور اُن کے بیٹے کے خلاف تفتیشی عمل شروع کرنے کا کہہ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں