کیا موبائل فون واقعی آپ کی خفیہ ریکارڈنگ کرتے ہیں؟ ایک معلوماتی رپورٹ

لندن(ویب ڈیسک) موبائل فونز کی سیکیورٹی پر کام کرنے والی ایک کمپنی نے اس مقبولِ عام سازشی نظریے سے نمٹنے کے لیے ایک ریسرچ کرائی ہے کہ آیا ٹیک کمپنیاں صارفین کی گفتگو سنتی ہیں اور ریکارڈ کرتی ہیں۔انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا اس طرح کی پوسٹوں اور ویڈیوز سے بھرا ہوا ہے کہ فیس بک اور گوگل

نامور صحافی جو ٹائیڈی بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں۔۔۔ جیسی بڑی بڑی کمپنیاں صارفین کی جاسوسی کرتی ہیں تاکہ انھیں اشتہارات کی مختلف قسم کی مہموں کا نشانہ بنایا جا سکے۔ایسی کئی ایک ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جن میں لوگ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کے انھوں نے جن مصنوعات پر بات کی خاص انہی کے بارے میں آن لائین پلیٹ فارمز پر اشتہارات نے انھیں آن گھیرا۔تاہم، حال ہی میں موبائل فونز کی سیکیورٹی کی ایک کمپنی ’ونڈیرا‘ نے اس سازشی نظریے کے بارے میں سچ جاننے کے لیے آن لائین تجربات کو دو تین مرتبہ دوہرایا، تو معلوم ہوا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ موبائل فونز یا ایپس صارفین کی جاسوسی کرتے ہیں۔ ریسرچرز نے دو فونز لیے، ایک سیمسنگ اینڈروئیڈ، اور دوسرا ایپل آئی فون، ان دونوں کو ایک آڈیو روم (شور والے کمرے) میں رکھ دیا۔ تقریباً تیس منٹ تک ان کے موجودگی میں تکرار کے ساتھ بلیوں اور کتوں کی غذا کے بارے میں اشتہارات سنائے گئے۔ ریسرچرز نے اسی طرح کے دو فونز ایک ایسے کمرے میں رکھ دیے جہاں خاموشی تھی۔سیکیورٹی ماہرین نے ان موبائل فونز کے تمام ایپس فیس بک، انسٹاگرام، کروم، سنیپ چیٹ، یو ٹیوب، اور ایمیزون پر ہر پلیٹ فارم کی مکمل اجازت کے ساتھ کھلے یا آن رکھے۔اس کے بعد انھوں نے ان فونز کے تمام ایپس اور پلیٹ فارمز پر پالتو جانوروں کی غذا کے بارے میں اشتہارات تلاش کیے۔ اس تجربے کے دوران ریسرچرز نے ان فونز کی بیٹری کے استعمال

کی رفتار اور مقدار بھی چیک کی۔ریسرچرز نے اس ٹیسٹ کو تین دن تک دوہرایا اور انھیں ’آڈیو روم‘ میں رکھے گئے فونز پر پالتو جانوروں کی غذا کے اشتہارات میں یا بیٹری کے استعمال کی مقدار میں کوئی خاص اضافہ نظر نہیں آیا۔آڈیو روم میں رکھے جانے موبائل فونز اور خاموش کمرے میں رکھے جانے والے فونز پر ہونی والی سرگرمیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ البتہ انھوں نے یہ ضرور نوٹ کیا کے موبائل فونز سے ڈیٹا کی آمد و رفت جاری رہی۔ لیک ڈیٹا کا یہ ٹرانسفر بہت کم سطح کا تھا، اور ’سیری‘ یا ’ہائے گوگل‘ کے استعمال کے وقت ہونے والے ڈیٹا ٹرانسفر کی مقدار سے بہت ہی کم تھا۔’ونڈیرا‘ کے سسٹم انجینئیر، جیمز میک، کہتے ہیں کہ ’ہمارا مشاہدہ تھا کہ ان تیس منٹوں کے دوران ہمارے ٹیسٹ کا ڈیٹا ٹرانسفر ورچؤل اسسٹنٹ ڈیٹا کے ٹرانسفر سے بھی بہت کم تھا۔ جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس دوران یعنی ان تیس منٹوں میں لوگوں کی بات چیت کی ریکارڈنگ اور اس کی کلاؤڈ میں اپلوڈنگ جیسی کوئی سرگرمی کسی ایپ کے ذریعے نہیں ہو رہی تھی۔میک کا کہنا تھا کہ ’تاہم اگر یہ ریکارڈنگ ہو رہی ہوتی تو ہم ڈیٹا کا اُس اونچی سطح کا استعمال دیکھتے جو عموماً ورچؤل اسسٹنٹ ڈیٹا کے استعمال کے دوران ہوتا ہے۔کئی برسوں سے ٹیک کمپنیاں یہی کوشش کرتی رہیں کہ وہ اس بات کو غلط ثابت کریں کہ وہ موبائل فونز میں لگے مائیکرو فونز کو صارفین کی جاسوسی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔پچھلے برس فیس بک کے سربراہ

مارک زُکربرگ سے امریکی سینیٹ میں ایک پیشی کے دوران یہی پوچھا گیا تھا کہ کیا ایسا ہو رہا ہے؟ تو انھوں نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔تاہم، ان بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں کے بارے میں اعتماد کا فقدان بڑھ چکا ہے۔ کئی صارفین یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی جاسوسی ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اینڈروئیڈ فونز کے ایپس خاموش کمرے میں زیادہ ڈیٹا استعمال کرتے ہیں جس کے ساتھ ’آئی او ایس‘ ایپس آڈیو روم میں زیادہ ڈیٹا استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انھیں نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لیکن انھوں نے طے کیا ہوا ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی ریسرچ کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔اس سب کے باوجود، سیکیورٹی کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو، ایلڈر ٹووی کو یقین ہے کہ مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی بھی خاص مقدار میں ڈیٹا ٹرانسفر نہیں ہوتا ہے۔’میں اس ریسرچ پر اپنا نام ثبت کرتے ہوئے یہ کہتا ہوں کہ جن پلیٹ فارمز پر ہم نے ٹیسٹ کیا ہمیں ان میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وہاں کوئی ایسی سرگرمی ہو رہی ہو۔ ممکن ہے کہ ایسا کسی ایسے طریقے سے ہورہا ہو جس کے بارے میں علم نہ ہو۔ لیکن میرے خیال میں اس بات کے کم امکانات ہیں۔‘انفارمیشن سیکیورٹی انڈسٹری کے ایسے ماہرین اس تحقیق کے نتائج سے شاید حیران نہ ہوں جو کئی برسوں سے یہ سچائی جانتے ہیں کہ ٹیک کمپنیاں ہمارے بارے میں اتنا کچھ

جانتی ہیں کہ انھیں ہمیں اشتہارات کا نشانے بنانے کے لیے ہماری گفتگو سننے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔صارفین کی شخصیات کی جزویات کو جاننے کے طریقے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اشتہاری کمپنیوں کے پاس صارفین کی شخصیات کی جزویات کو جاننے کے بہت ہی حساس طریقے موجود ہیں۔مثال کے طور پر لوکیشن ڈیٹا، انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تاریخ، ٹریکنگ پکسلز، یہ ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے یہ جاننا آسان ہوجاتا ہے کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں آپ کو آپ کے دوستوں سے سوشل میڈیا پر موجود معلومات کے ذریعے ملا سکتے ہیں، اور شاید وہ بھی اُنہی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہوں جن میں آپ بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔اس طرح کی تکنیکی صلاحیتوں میں تیزی سے بہتری بھی آ رہی ہے۔امپیریل کالج لندن سے وابستہ موبائل فونز پر اشتہارات اور سکییورٹی کے ماہر، سوٹیرِس ڈیمِٹریس کہتے ہیں ’آپ جو اشتہارات دیکھتے ہیں یہ دراصل ان کمپنیوں کے پاس آپ کے بارے میں ان کے پاس موجود بہت زیادہ ڈیٹا کا نتیجہ ہے۔ یہ اس ڈیٹا کو اشتہارات کی کمپنیوں کے نیٹ ورک میں شئیر کرتی ہیں جو خود کار اور انتہائی طاقتور مشین لرننگ ایلگورتھمز سے لیس ہوتی ہیں۔ڈاکٹر ڈیمِٹریس کہتے ہیں کہ ’یہ کمپنیاں اتنی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں کہ یہ آپ کے کسی ایکشن سے پہلے ہی آپ کے بارے میں یہ بھی جانتی ہیں کہ آپ کس بات میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسے بھی واقعات ہیں جہاں ایپس نے صارفین کی سرگرمیوں کو اشتہارات کے مقاصد کے لیے ریکارڈ کیا ہے۔گزشتہ برس امریکی ریاست میساچیوسٹ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی نے 17000 موبائل فونز کی مختلف ایپس کا ٹیسٹ کیا جو انھوں نے دنیا بھر میں اینڈروئیڈ فونز کے ایپ سٹور سے حاصل کیے۔انھیں موبائل فونز کے خفیہ طور پر سننے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ تاہم انھیں یہ ضرور پتہ چلا کہ کچھ قدرے ایسی چھوٹی چھوٹی ایپس ہیں جو صارف کے موبائل فون سے سکرین شاٹس یا ویڈیوز کسی تیسری پارٹی کو بھیجتی رہتی ہیں۔ اگرچہ یہ ایپس ایسا کسی تحقیقی مقصد کے لیے کر رہی تھیں نہ کہ اشتہاری مہم کے لیے۔اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ چند مقتدر ریاستیں بھی جاسوسی کے لیے اعلیٰ اقسام کے موبائل فونز پر سائیبر حملے کرتی ہیں۔اس برس مئی میں واٹس ایپ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ہیکرز کہیں دور سے اپنے ایپس کے ذریعے جاسوسی کرنے والے سوفٹوئیر موبائل فونز میں داخل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔واٹس ایپ جو کے فیس بک کی ملکیت ہے، کا کہنا ہے کہ اس حملے کا ہدف ایک محدود تعداد کے صارفین تھے اور ایسا حملے ایک ایڈوانسڈ سائیبر ایکٹر کے ذریعے منظم کیا گیا تھا۔‘ واٹس ایپ کے مطابق بعد میں اس نقص کو ٹھیک کرلیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں