کیا آپ جانتے ہیں ،ہواسے بجلی پیداکرنےوالی دنیا کی سب سےبڑی ٹربائن کہاں ہے؟

کوپن ہیگن (ویب ڈیسک)ہوا بھی توانائی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ونڈ ٹربائنز کے ذریعے بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ڈنمارک میں دنیا کی سب بڑی ونڈ ٹربائن موجود ہے، ویسٹاس وی 164 نامی یہ ٹربائن 10 میگا واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے

.ڈنمارک 2030 تک ملکی ضروریات کی 50 فیصد بجلی ہوا سے پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جہاں مختلف شہروں میں خشکی، ساحلی پٹیوں اور سمندر میں ونڈ ٹربائنز سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ دارالحکومت کوپن ہیگن کی ساحلی پٹی پر بھی ایسے بہت سے چھوٹے بڑے پلانٹس نصب کیے گئے ہیں۔ویسٹاس وی 164ونڈ پاور انڈسٹری ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے کیملا ہال بیچ کا کہنا ہے کہ سولر سسٹم کے ذریعے تو صرف سورج کی روشنی میں ہی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن ونڈ پاور سسٹم کے ذریعے 24 گھنٹے بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ڈینش ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں توانائی حاصل کرنے کے لیے ہوا کو استعمال میں لایا جا رہا ہے کیونکہ یہ بجلی پیدا کرنے کا نسبتاً آسان، سستا اور آلودگی سے پاک ذریعہ ہے۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق رینی کنال کا منصوبہ پندرہ سال بعد مکمل تو ہوا لیکن کرپشن کی بڑی داستان رقم کر گیا۔ بے ضابطگیوں اور تاخیر سے قومی خزانے کو 12 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔رینی کینا ل گڈو کی تعمیر کا منصوبہ، بے ضابطگیوں اور تاخیر سے قومی خزانے کو 12 ارب روپے کے نقصان کا خصوصی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہو گیا۔رپورٹ میں 19 سال کے آڈٹ اعتراضات کو شامل کیا گیا ہے۔ کنٹریکٹر کے بروقت کام مکمل نہ کرنے پر1 ارب 19 کروڑ جبکہ نہر سے منسلک غیر ضروری تعمیرات کی وجہ سے ایک ارب 37 کروڑ روپے ڈوب گئے۔خصوصی رپورٹ میں کہا گیا کہ نہر کا رخ غلط موڑ کر تعمیرات کی وجہ سے بھی قومی خزانے کو ایک ارب 28 کروڑ کا نقصان ہوا۔ رینی کینال کے ڈیزائن میں تبدیلیوں اور زمین کی خریداری میں خلاف ضابطہ ادائیگیوں سے بھی 86 کروڑ روپے ضائع ہوئے۔رینی کینال گڈو کا منصوبہ 2001 میں شروع ہوا تھا، 2014 میں اس کا پہلا فیز جبکہ 2016 میں دوسرا فیز مکمل ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں