جوتوں کی اس دیوار کے پیچھے کیا کہانی چھپی ہے ؟ ترکی سے ایک ناقابل یقین خبر

استبنول (ویب ڈیسک)استنبول کے قصبے کباٹس کی ایک دیوار پر گھریلو تشدد سے ہلاک ہونے والی خواتین کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش میں آرٹ کی تنصیب کی دو دیواروں پر خواتین کے جوتوں کے تقریبا 440 جوڑے لٹکے ہوئے ہیں۔فنکار وہت ٹونا نے اس معاشرتی مسئلے کو اس منفرد انداز سے پیش

کیا کہ اس نے عالمی دنیا کی توجہ بھی اپنی جانب مرکوز کروالی۔استنبول کے شہریوں کی جانب سے یہ اُن خواتین کی یاد میں سینڈلز لٹکائی گئیں ہیں جنہیں رواں سال اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل کیا گیا ہے ۔آزربائیجان سے تعلق رکھنے والے جاوید نابیو نامی ایک ٹوئٹر صارف نے اپنے ٹوئٹ میں ان 404 جوتوں کی تصویر شیئر کی۔ جاویدنے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ انہیں حیرت ہے کہ لوگ اس حقیقت پر توجہ دینے کے بجائے اسےآرٹ پروجیکٹ کے طور پر لے رہے ہیں جبکہ یہ ہمارے معاشرے کا سنجیدہ پہلو ہے ۔ترکی کے پڑوسی ممالک سے اس تصویر پر بے شمار تبصرے آرہے ہیں جو اس تصویرکو آرٹ کا نمونہ قرار دے رہے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق یہ ترکی کا بدترین المیہ ہے ۔جاوید کے اس ٹوئٹ نے 24 گھنٹوں کے دوران غیر معمولی توجہ حاصل کر لی ہے ۔اُن کے اس ٹوئٹ نے ایک دن میں ہی 8 ہزار سے زائد آرٹیز حاصل کیں۔جاوید کی ٹوئٹ پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’استنبول کے لوگوں کو اپنی بلیوں سے تو محبت ہے پر یہ اپنی عورتوں سے نفرت کرتے ہیں۔‘ترکی کے نیشنل پبلک ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق ترکی میں 2010 سے گھریلو تشدد سے ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق استنبول میں 2010 سے اب تک 26 سو سے زائد خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں ۔شوہر کے تشدد کاشکار خواتین تو دنیا کی ہرسوسائٹی میں پائی جاتی ہیں اورترکی میں تشدد زدہ خواتین کی ہلاکت کے بعد جوتے دیوار پرلٹکانے سے معاشرے میں انسانیت کی قدرکاشعور اجاگر کیا گیا جس کالازمی فائدہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں