رانا ثناء اللہ کو جیل میں گھر کا کھانا ملے گا یا نہیں؟ عدالت نے فیصلہ سنا دیا

لاہور (ویب ڈیسک ) سیشن عدالت نے سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی جیل میں گھر کا کھانا دینے کی درخواست پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سیشن جج لاہور قیصر نذیر بٹ نے رانا ثناءاللہ کی درخواست پر فیصلہ

محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے عدالتی فیصلے کی کاپی فوری طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو ارسال کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ رانا ثناءاللہ دل کے مریض ہیں، انہیں گھر کا پرہیزی کھانا دیا جائے، جیل کا کھانا رانا ثناء اللہ کے لیے مضر صحت ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پریکٹیکل کے نمبروں میں رد و بدل کے باعث فیاض الحسن چوہان کے صاحبزادے کا ایف ایس سی کا نتیجہ روک لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی نے فزکس کے پریکٹیکل کے نمبروں میں رد و بدل کے باعث صوبائی وزیر کے بیٹے کا نتجہ روک لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ راولپنڈی بورڈ نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے بیٹے کا انٹرمیڈیٹ ایف ایس سی کا نتیجہ روک لیا ہے، بتایا گیا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کے بیٹے فہد حسن کے فزکس کے پریکٹیکل کے نمبر تبدیل کیے گئے تھے جس کے باعث نتیجہ روکا گیا۔بورڈ انتظامیہ کے مطابق چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی کے احکامات پر کنٹرولر امتحانات نے 2 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ چیئرمین راولپنڈی بورڈ نے کہا ہے کہ فزکس کے پریکٹیکل 17 جولائی کو ختم ہوئے تھے جبکہ انہوں نے چارج 18 جولائی کو سنبھالا تھا اور پھر انہوں نے نتائج میں ردو بدل کا معاملہ نوٹس میں آتے ہی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات کا آغاز کنٹرولر امتحانات کی جانب سے چیئرمین بورڈ کو خط لکھے جانے کے بعد ہوا۔ بتایا گیا ہے کہکنٹرولر امتحانات نے چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ راولپنڈی کو لکھے گئے اپنے خط میں بتایا تھا کہ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے صاحب زادے فہد حسن کے فزکس کے پریکٹیکل میں پہلے14 نمبر تھے لیکن بعد میں انہیں تبدیل کرکے 30 کیا گیا اور پھر امیدوار فہد حسن کے فزکس پریکٹیکل کے نمبروں میں رد و بدل پر نتیجہ روکا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں