’’ہر پولیس والے کی جیب پر۔۔۔۔‘‘موبائل فون پر پابندی کے بعد فواد چوہدری نے پولیس میں کونسی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا مشورہ دے دیا؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) محکمہ پولیس میں بہتری لانے کے لیے وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی نے مشورہ دیا ہے کہ ہانگ کانگ پولیس کی طرح پاکستان میں بھی ہر پولیس والے کی جیب پر ایک کیمرہ لگا ہونا چاہیے جو یہ ریکارڈ کرے کہ

وہ کیا کر رہا ہے۔ انہوں نجے کہا کہ اس طرح یہ جاننے مین آسانی ہو گی کہ پولیس والے کیا کر رہے ہیں، کہاں ہیں اور کیا بات کر رہے ہیں۔واجح رہے کہ گزشتہ دنوں پولیس والوں کی جانب سے تشدد کا شکار ہونے والے کئی افراد کے کیسز ویڈیوز کی وجہ سے سامنے آئے ہیں جس کے بعد آئی جی پنجاب نے پولیس اہلکاروں کے موبائل استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔تاہم اب پولیس افسران کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سی پی او راولپنڈی نے ہدایت نامے میں تبدیلی کر دی ہے۔جس کے بعد پولیس اسٹیشن پرعام سائلین کے موبائل فون لے کر جانے پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ ۔صرف ایس ایچ او اور ہیڈ محرر ٹچ اسکرین یا اینڈرائڈ فون رکھ سکیں گے۔پولیس افسران اور پولیس اہلکاروں پر سمارٹ فون استمال کرنے پا پابندی برقرار ہے۔واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے پولیس اہلکاروں کے موبائل استعمال پر پابندی لگا دی تھی ۔اے جی آپریشن نے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو مراسلہ ارسال کردیا تھا۔اس فیصلے پر کافی تنقید بھی کی جا رہی ہے اور اب فواد چوہدری نے مشورہ دیا ہے کہ ہانگ کانگ پولیس کی طرح پاکستان میں بھی ہر پولیس والے کی جیب پر ایک کیمرہ لگا ہونا چاہیے۔ دوسری جانب لاہور آئی جی پولیس آفس کے باہر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں پولیس اہلکار کھلے عام سمارٹ فون استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں