مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے گھر تباہ کر کے وہاں پر کیا بنا دیا گیا؟ناقابل یقین تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک) دنیا کے ممالک پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ہر دوسرے ملک میں کسی نا کسی طرح کی بغاوت یا پھر ظلم و تشدد کی کہانی جاری دکھائی دیتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ظلم کا شکار مسلمان زیادہ ہو رہے ہیں۔ کشمیر سے لے کر فلسطین تک اور چیچنیا سے لے

کر روہنگیا تک مسلمانوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔اگر بات کی جائے روہنگیا کے مسلمانوں کی تو اس دھرتی پر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔کیونکہ بدھ مت کے پیروکاروں نے وہان کے مسلمانوں کے ساتھ جو انسانیت سوز طریق اپنائے ہیں ان سے متعلق کہانیاں انٹرنیشنل میڈیا کئی بار سنا چکا ہے۔تاہم بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 2017میں سٹیلائٹ کی اگر تصاویر دیکھی جائیں تو روہنگیا میں جن مقامات پر مسلمانوں کے گھر تھے وہ آج وہاں نظر نہیں آتے۔جبکہ ان جگہوں پر سرکاری عمارات کے علاوہ پولیس بیرکس بھی تعمیر کر دی گئی ہیں۔بی بی سی کے مطابق ان کے نمائندے نے جب روہنگیا کے انتظامی آفیسر سے اس بارے جاننا چاہا تو اس نے ان جگہوں پر کسی قسم کی مسلمان آبادی کے حوالے سے انکار کر دیا۔گزشتہ ایک دہائی میں بڑے پیمانے پر روہنگیا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جو کہ نسل کشی کے مترادف تھااور انہیں ملک بدر بھی کر دیا گیا تھا۔ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا پناہ گزین بنگلہ دیش اور آسام کے بارڈر پر پڑے رہے مگر انہیں کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہ ہوا۔ دنیا کے ممالک پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ہر دوسرے ملک میں کسی نا کسی طرح کی بغاوت یا پھر ظلم و تشدد کی کہانی جاری دکھائی دیتی ہے۔تاہم اب روہنگیا کی حکومت کچھ جلا وطن خاندانوں کو واپس اپنے ملک لانے کے لیے تیارہو چکی ہے جس کے لیے وہ کیمپ بھی بنا رہی ہے۔تاہم ان مسلمانوں کے آبائی گھر چھین کر ان مقامات پر سرکاری مکانات بنا دیے گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اب انہیں اپنے گھر واپس نہیں مل سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں