خان صاحب : جب تک آپ کی حکومت اور پاک فوج اس پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہونگے ، نیا پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا ۔۔۔۔عارف نظامی نے بڑی خامی کی نشاندہی کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) آرمی چیف جنر ل قمر جا وید باجو ہ نے اس مرتبہ6ستمبر کو یوم دفاع و شہدا کے موقع پر جی ایچ کیو میں ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے درست پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے

نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب ہم غربت اور جہالت کے خلاف لڑیں گے ۔ پاک فوج اس وقت کئی محاذوں پر سرگرم ہے۔ نریندر مودی کے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں اور جیسا کہ آرمی چیف نے6ستمبر کو یہ بھی کہا ہے کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اس کے لیے آخری گولی ،آخری سانس اور آخری سپاہی تک لڑیں گے ۔دوسری طرف افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے لیے مذاکرات بھی حتمی مرحلے میں جاری تھے کہ صدر ٹرمپ نے اچانک منسوخ کر دیئے مزید برآں سیاسی قیادت کو بھی فوجی بیساکھیوں کی ضرورت رہتی ہے ۔ اصولی طور پر غربت اور جہالت کے خلاف جہاد کرنا پاکستان کے اساسی نظر یے کا لازمی جزو ہے اور اس لحاظ سے وزیراعظم عمران خان اور ان سے پہلے برسراقتدار سیاسی حکومتوں کی بھی منصبی ذمہ داری تھی کہ وہ اس محاذ پر جنگی بنیادوں پر لڑتیں لیکن بد قسمتی سے اقتدار پر شب خون مارنے والے ماضی کے حکمرانوں کی سوائے خود کو دوام دینے کے کوئی اور دلچسپی نہ تھی اورسیاسی حکومتیں جو بنیادی طور پر جاگیرداروں کی حکومتیں تھیں ‘بیورو کریسی اور صنعت وتجارت میں مخصوص مفادات کے لیے امور مملکت چلاتی رہیں ۔ ہر حکومت غربت اور جہالت ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے تو کرتی رہی لیکن حقیقی طور پر ہماری سیاسی ایلیٹ کی ترجیحات میں غربت ختم کرنا شامل ہی نہیں تھا ۔غربت اور جہالت کا چولی دامن کا

ساتھ ہے لیکن یہاں تو باقاعدہ جہالت کو فروغ دیا گیا ۔ طالع آزما ضیاء الحق نے اپنے گیارہ سالہ طویل دور آمریت میں اس ملک کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ۔ ا ن کا مشن تو اسلام کی غلط تاویل کر کے مذہب کے نام پر ہی جہالت پھیلانا تھا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جس جنگ کے جیتنے کا اعلان کر رہے ہیں وہ کلاشنکوف کلچر، جہادکے نام پر دہشت گردی جنرل ضیاء الحق کی ہی دی ہوئی سوغات تھیں ۔ جنرل ضیاء الحق کا اگر بس چلتا رہتا تو وہ پاکستان کو قرون اولیٰ کے دور میں لے جانا چاہتے تھے لیکن سیاسی حکومتوں نے بھی غربت اور جہالت کے خلاف کوئی موثر کام نہیں کیا ۔میاں نوازشریف کا ویژن تو سڑکوں ،پلوں،موٹرویز اور بلٹ ٹرینوں تک ہی محدود تھا ۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے یقینا روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر ایک سیاسی انقلاب برپا کیا جس سے آج تک ان کے جانشین فیضیاب ہو رہے ہیں لیکن قوم کو نہ کپڑا ملا ،نہ روٹی اور نہ ہی مکان ۔اسے ستم ظریفی نہیں تو کیا کہیں گے کہ پاکستان کی ہر حکومت نے تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کے لیے بجٹ میں بہت کم رقم مختص کی جوشرح کے لحاظ سے اقوام متحدہ کے مقرر کردہ اہداف سے بھی کم تھی ۔ اس پر مستزادیہ کہ وطن عزیز میں روشن خیالی اور جیو اور جینے دو کی بات کرنے والوں کو ریاست کی جانب سے غدار قرار دیا جاتا رہا ۔ اب بھی غدار قرار دینے

کی فیکٹریاں بند نہیں ہوئیں ۔ علامہ اقبال کے افکار کی روشنی میں پاکستان کے آئندہ کے سیاسی نظام کا نقشہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کھینچا جس کی ایک عملی شکل 11اگست 1947ء میں دستور ساز اسمبلی میں ان کی شہرہ آفاق تقریر تھی جس میں انھوں نے امور ریاست ،مذہبی آزادی ،قانون کی حکمرانی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان میںہر مذہب کے لوگوں کو آزادی ہو گی کہ وہ اپنی عبادت گاہوں میں جا سکیں گے ۔لیکن ان کی آنکھیں بند ہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی پاکستان کے ایجنڈے پر ان قوتوں نے قبضہ کر لیا جو مذہب کے نام پر ہی قیام پاکستان کے خلاف تھیں کیونکہ ان کے نزدیک اسلام کو علاقائی حدود میں بند نہیں کیا جا سکتا ۔ اس سے بڑی ٹریجڈی کیا ہو سکتی تھی کہ قائد کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کی بانی پاکستان کی1951ء میں تیسر ی برسی کے موقع پر تقریر کو ریڈیو پاکستان پر ہی سنسر کر دیا گیا نہ صرف یہ بلکہ قائد کی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کو بھی طاق نسیان میں رکھ دیا گیا اور حکومتیں اس کا تذکرہ کرنے سے بھی ہچکچانے لگ گئیں‘ بعدازاں جنرل ضیاء الحق کے ان حمایتیوں نے جو کہتے تھے کہ اسلام میں سیاسی جماعتوں کی گنجائش ہی نہیں‘ قائد کو اسلام کے حوالے سے ہی ان کے افکار سے ملاں بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی اور اس حوالے سے یہ انوکھی منطق پیش کی گئی کہ 11اگست والی تقریر

کے بعد قائد اعظم نے اسلامی نظام کی حمایت کی تھی ۔ معروف صحافی زیڈ اے سلہری جنہیںکچھ عرصہ قائداعظم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو بعد میں خود مشرف بہ جماعت اسلامی ہوئے ‘نے اس وقت جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں قومی اسمبلی میں قائداعظم کی سوٹ میں تصویر کی جگہ اچکن میں ملبوس تصویر لگانے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے سرکاری ترجمان انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز میں ایک مضمون لکھا ۔ Paint the Quaid as he is گویا کہ قائداعظم کی شخصیت کو مسخ نہ کرو اور انھیںایسے ہی پیش کرو جیسے وہ تھے ۔لیکن قائد کے اصل افکار پر عمل کرنا مخصوص مفادات کی آبیاری کرنے والی حکومتوںکے بس کا روگ نہ تھا ۔ آج کے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان اقلیتوں کے حوالے سے مختلف مواقع پر اپنے خطابات میں قائداعظم کی متذکرہ تقریر کا کئی بار حوالہ دے چکے ہیں جو کہ انتہائی خوش آئند بات ہے لیکن غربت اور جہالت کے خاتمے اور دوسرے بلند بانگ دعوؤں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے ۔سب سے پہلے تو معیشت کا ٹھنڈا چولہا گرم کرنا پڑے گا۔ اس وقت تو آئی ایم ایف کی بیساکھیوں کے سہارے ہر چند ہے کہ نہیں ہے والا معاملہ ہے۔ اس کے علاوہ فوجی قیادت ہو یا سویلین قیادت سوچ میں بھی کچھ بنیادی تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔ جب تک وطن عزیز میں جیو اور جینے دو کی پالیسیوں کا احیا نہیں ہوتا ہر شہری کو عملی طور پر برابر کے حقوق حاصل نہیں ہونگے ،آزادی تحریر وتقریر کو سلب کرنے کی پالیسیاں جاری رہتی ہیں تو پاکستان میں غربت اور جہالت ختم کرنے کا خواب محض ایک خو اب ہی رہے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں