دنیا کے جاہل ترین ممالک کی فہرست جاری ، بھارت کا پہلا نمبر مگر پاکستان کس نمبر پر ہے؟ حیرت انگیز رپورٹ

لندن(ویب ڈیسک) دنیا کے سب سے زیادہ جاہل ترین 10 ممالک کے اقوام کی فہرست جاری کردی گئی جس کے مطابق جاہل ترین ممالک میں بھارت کا پہلا نمبر ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک حالیہ سروے میں یہ فہرست جاری کی گئی ہے جس میں سب سے زیادہ جاہل ترین

ممالک کے اقوام کے بارے بتایا گیا ہے ، اس میں بھارت کو سب سے زیادہ جاہل ترین ملک قراردے گیا ، فہرست میں چائینہ دوسرے ،تائیوان تیسرے جنوبی افریقہ چوتھے نمبر پر ہیں ۔فہرست میں امریکہ کو پانچواں نمبر دیا گیا ہے جبکہ برازیل کا چھٹا، تھائی لینڈ کا ساتواں ، سنگاپور کا آٹھواں ،ترکی کا نواں اور انڈونیشیا کا دسواں نمبر ہے ۔پہلے دس ممالک میں پاکستان کا نام نہیں ہے ۔ جبکہ بھارت جہالت میں اول رہا۔ دنیا میں چند ایک کمپنیاں ایسی ہیں جن کے بانی دنیا میں موجود امیر ترین لوگوں میں شمار کیاجاتے ہیں۔انہی امیر لوگوں میں ایک نام جیک ما کا بھی ہے۔جو کہ چین کی یک کمپنی کے ملک ہیں۔یہ ارب پتی شخص آج اپنی کمپنی سے ریٹائرڈ ہو جائے گا۔چین کے امیر ترین شخص اپنے عروج کے زمانے میں ہی 460 ارب ڈالرز کی کمپنی کو چھوڑ کر ریٹائر ہونے کے لیے تیار ہیں اور ایک بار پھر تعلیم دینے کے سلسلے کو شروع کرنے والے ہیں۔علی بابا کے چیئرمین جیک ما منگل کو اپنی کمپنی کو چھوڑ رہے ہیں جس کا اعلان انہوں نے گزشتہ سال ستمبر میں کیا تھا۔10 ستمبر کو جیک ما 55 سال کے ہورہے ہیں اور ان کو الوداع کہنے کے لیے ہانگژو اولمپک اسپورٹس سینٹر اسٹیڈیم میں تقریب کا انعقاد علی بابا کی جانب سے کیا جارہا ہے جہاں رسمی طور پر ان کے جانشین ڈینیئل ژانگ کمپنی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔رواں سال مئی میں ایک ٹیک کانفرنس کے دوران علی بابا کے چیئرمین نے کہا تھا کہ وہ ستمبر میں ریٹائر ہونے کے بعد ایک بار پھر استاد بن جائیں گے۔اس کانفرنس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ کمپنی کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر 10 ستمبر کو اپنی پوزیشن چھوڑ دیں گے۔جیک ما اس وقت 41.7 ارب ڈالرز (50کھرب پاکستانی روپے سے زائد) کے مالک ہیں اور دنیا کے 20 ویں امیر ترین شخص ہیں، مگر ایک وقت تھا جب ان کی ماہانہ آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی۔جیک ما نے 1988 میں گرایجویشن کے بعد اپنے آبائی علاقے ہانگژو میں ایک یونیورسٹی میں انگلش ٹیچر کے طور پر کام کیا تھا جہاں ان کی ماہانہ تنخواہ 12 ڈالر تھی۔مئی میں کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا انہوں نے ایک بار پھر پڑھانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ انہیں تدریسی سرگرمیوں سے محبت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے علی بابا سے جو دولت کمائی، وہ اسے بینکوں یا سرمایہ کاروں کو دینے کی بجائے چین میں تعلیمی نظام میں بہتری اور تبدیلی کے خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں