حالات کشیدہ ۔۔۔۔ اچانک پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر کیا کام کر دیا گیا؟ پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر

کراچی(ویب ڈیسک) پاک بھارت کشیدگی کے باعث ملکی فضائی سرحدوں کی موثر نگہبانی و نگرانی کیلیے مزید 9 جدید ریڈار نصب کر دیے گئے۔ملکی فضائی سرحدوں کی موثر نگہبانی و نگرانی کیلیے مزید 9 جدید ریڈار سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک کے اہم مرکزی ایئرپورٹس پر نصب کیے ہیں، نصب کیے جانے والے جدید ریڈارکے بعد

ملکی فضائی سرحدوں اور فضائی حدود کی موثر حفاظت اور نگرانی کی جا سکے گی، یہ ریڈار پہلے لگائے جانے والے ریڈار کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ وسیع رینج رکھتے ہیں۔نئے ریڈار کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹس کے علاوہ روجھان، پسنی، لک پاس میں لگائے گئے ہیں، لگائے گئے ریڈار میں سے 3 پرائمری سرویلنس ریڈار اور6 سیکنڈری سرویلنس ریڈارشامل ہیں جو چیک ری پبلک اور اسپین میں تیار کیے گئے ہیں۔نئے لگائے گئے تمام ریڈار مکمل طور پر آپریشنل ہیں، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے مرکزی ایئر ٹریفک منیجمنٹ سسٹم کے ساتھ منسلک کر دیے گئے ہیں جن کے لگنے کے بعد سول ایئر ٹریفک کی نگرانی اور حفاظت کی رینج مزید بڑھ جائے گی۔واضح رہے کہ غیر فوجی فضائی آپریشنزکا ریگولیٹر ہونے کے ناطے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستانی ایئر اسپیس (فضائی حدود) میں فضائی ٹریفک محفوظ اور رواں رکھنے کا ذمے دار ہے تاکہ اس کے فضائی حدود اور ملکی فضائی حدودکے اوپر سے گزرنے والے طیاروں کیلیے کسی قسم کا رسک نہ ہونے کے برابر ہو جائے۔یاد رہے اس سے پہلے 27 فروری کو ہونے والے واقعے کے بعد پاک بھارت کشیدگی کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت پاکستان کی جانب سے بند کی جانے والی مشرقی فضائی حدود سول ایوی ایشن اتھارٹی نے غیر اعلانیہ طور پر بند کردی تھیں۔ان فاضائی حدود کو کھولنے کا اعلان کردیا گیا ہے تاہم سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں داخل ہونے والی فضائی حدود تاحال بند رہے گی۔بھارت

سے آنے والی کوئی پرواز پاکستتانی حدود میں داخل نہیں ہوسکے گی، اس حوالے سے سی اے اے نے ائر لائن انتظامیہ کو نوٹم بھی جاری کردیا ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ نوٹم کے مطابق سیالکوٹ، رحیم یارخان اور بہاولپور ائیر پورٹ بند رہیں گے۔سی اے اے نے بین الاقوامی ٹرانزٹ پروازوں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں 11مارچ تک توسیع کردی ہے، پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازیں11مارچ دوپہر3بجے تک بند رہے گی۔سی اے اے نوٹم میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کے فعال ہوائی اڈوں پر15مارچ تک جزوی طور پر آپریشن بحال رہے گا جبکہ غیر فعال ائیر پورٹس27فروری سے فضائی آپریشن کے لیے مکمل طور پر بند ہیں۔پھر دو مارچ کو پاکستان کی فضائی حدود کو جزوی طور پر بحال کیا گیا تھا، جس کے تحت ملک کے چار ایئر پورٹس پر پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ابتدائی طور پر کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ ایئر پورٹس پر فضائی آپریشن کی اجازت دی گئی۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹم میں مخصوص ایئر پورٹس کی بحالی کا ذکر کیا گیا ہے۔پھر اس کے بعد بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود دوبارہ سے بند کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ترجمان قومی ائیرلائن کے مطابق بھارت کے لیے پروازیں چلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام کے بعد سرحدوں پر سخت کشیدگی ہے اور اس صورتحال میں بھارتی فضائیہ کسی بھی وقت پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرسکتی ہے،جس کی نشاندہی کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بھارت سے آنے والے طیاروں کے لیے بند کرنے کی تجویز زیر غور ہے ۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں 14 فروری کو ایک کار خود کش دھماکے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام بھارت نے براہ راست پاکستان پر عائد کیا تھا۔پلوامہ واقعے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی اور 26 فروری کی رات بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جس پر پاک فضائیہ کی بروقت جوابی کارروائی پر بھارتی طیارے بالاکوٹ کے قریب نصب ہتھیار پھینکتے ہوئے بھاگ نکلے تھے۔جس کے بعد بدھ کی صبح 27 فروری کو پاک فضائیہ نے بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے بھارت کے دو طیارے مار گرائے جبکہ ایک بھارتی پائلٹ کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں