فیس بک نے صارفین کی رازداری محفوظ بنانے کے لیے شاندار قدم اٹھا لیا

نیویارک(ویب ڈیسک) فیس بک نے صارفین کو آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں رازداری اور جمع کردہ ڈیٹا سے اپنی شناخت منقطع کرنے سے متعلق نئے ٹول کا اعلان کر دیا۔فیس بک سے دور سرگرمی سے متعلق ٹول کے اعلان کے بعد صارفین یہ جان سکیں گے کہ کونسے ایپس اور ویب سائٹ ان کی آن لائن

سرگرمیوں کے کا ڈیٹا اکھٹا کرکے فیس بک کو مہیا کر تے ہیں۔اس نئے ٹول کے ذریعے صارفین ڈیٹا اکھٹا کرنے والی ایسی ایپس اور ویب سائٹس کو صاف کر سکیں گے اور اپنی آن لائن سرگرمییوں کو پوشیدہ رکھ پائینگے ۔ فیس بک کے مطابق یہ سہولت فی الحال آئرلینڈ، جنوبی کوریا اور اسپین کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔فیس بک کی جانب سے صارفین کو اپنی سرگرمیوں کو راز میں رکھنے کے اختیار کے بعد فیس بک جمع شدہ ڈیٹا سے ان کی شناخت کرنے والی معلومات کو ختم کر دے گا۔اس نئے ٹول کو متعارف کرانے کے بعد فیس بک یہ نہیں جان سکے گا کہ کونسی ویب سائٹ ممبر نے فیس بک وزٹ کیا یا کونسی سرگرمی میں ملوث رہا۔اس نئے ٹول کے ذریعے صارفین کو مستقبل میں فیس بک کی سرگرمی سے اپنے اکاؤنٹ کومنقطع کرنےکا بھی اختیار حاصل ہوگا۔چیف پرائیویسی آفیسر ایرن ایگان کا کہنا ہی کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سمارٹ فون استعمال کرنے والا ہر صارف تقریباً 80 ایپس میں سے 40 سے زیادہ ایپس کا ہر مہینے استعمال کرتا ہے.صارف کو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون ان کی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں معلومات رکھتا یا اکھٹی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیس بک کے نئے ٹول کے ذریعے صارفین اپنی سرگرمیوں اور رازداری کو پوشیدہ رکھ سکیں گے۔تاہم اس نئے ٹول کے ذریعے صارفین فیس بک کے ڈیجیٹل اشتہارات سے چھٹکارا نہیں پاسکیں گے۔ فیس بک اس سال 20 فیصد سے زیادہ ڈیجیٹل اشتہارات کو کنٹرول کرے گا، جس سے

لگ بھگ 67 بلین ڈالر کمائی ہوگی۔آن لائن ریسرچ کے تجزیہ کار نیکول فرانسس کا کہنا ہے کہ صارفین کی فیس بک سے سرگرمی کو پوشیدہ رکھنے کے باوجود اس کی ڈیجیٹل اشتہارات کی کمائی متاثر نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ صارفین فیس بک سرگرمی سے دور رہ کر البتہ کم ٹارگیٹڈ والے اشتہار دیکھ پائینگے، تاہم عمومی ڈیجیٹل اشتہارات پر ان کی نظر پڑیگی۔ آغاز میں فیس بک کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے بیان دیا تھا کہ وہ اس امر کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جس قدر ممکن ہو سکے اعلیٰ معیار کی صحافت کو اجاگر کریں۔‘اس لئے فیس بک نے نیوز ٹیب کے حوالے سے معتبر صحافیوں سے مدد لینے کی تصدیق کردی ہے۔اس نئے منصوبے پر عمل درآمد سے فیس بک اپنے روایتی طریقے یعنی الوگرتھم کے ذریعے صارفین تک ان کی پسندیدہ معلومات پہچانے کے طریقہ کار سے تبدیلی اختیار کر لے گا۔چند افراد پر مشتمل ٹیم یہ فیصلہ کرے گی کہ فیس بک صارفین کے لیے ٹاپ اسٹوریز کیا ہوں گی۔نیوز ٹیب کے علاوہ صارفین کی نیوز فیڈ میں دکھائی دی جانے والی باقی معلومات الوگرتھم کی مدد سے صارف کی دلچسپی، ان صفحات جنہیں صارف نے لائک اور سبسکرائب کیا ہے اور صفحات کی فالوونگ کو مدنظر رکھتے ہوئے دکھائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ نیوز ٹیب نیوز فیڈ سے الگ ہوگا۔فیس بک کے ہیڈ آف نیوز پارٹنر شپ کیمپ بیل براؤن نے ایک خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’نیوز ٹیب میں تبدیلیوں کے ذریعے ہم صارفین کے فیس بک استعمال کرنے کے تجربے کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں جس سے وہ خود کو جوڑ سکیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’فیس بک کے ٹاپ نیوز سیکشن کے لیے ہم صحافیوں کی ایک چھوٹی سی ٹیم بنا رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ نمایاں کی جانے والی اسٹوریز اس قابل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں