سرکاری ملازم افسروں کے غیر قانونی احکامات ماننے کا پابند ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے بڑے کام کی وضاحت کردی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم غیر قانونی احکامات ماننے کا پابند نہیں۔ سپریم کورٹ میں سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ جاوید حنیف کے خلاف غیر قانونی تقرریاں کیس کی سماعت ہوئی۔ وکیل صفائی نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پرعارضی ملازمین کو مستقل کیا، وزیراعظم کے احکامات

وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ بابر غوری کے ذریعے ملے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ انیتا تراب کیس کے بعدسرکاری ملازم غیر قانونی احکامات ماننے کا پابند نہیں، عارضی ملازمین کو بغیر اشتہار کے مستقل کر دیا گیا، کیا پاکستان کے باقی عوام دوسرے درجے کے شہری ہیں، کیا باقی عوام کے پی ٹی میں نوکری نہیں کر سکتے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بطور چیئرمین وزیر اعظم کی ہدایات کو دیکھنا چاہیے تھا۔ عدالت نے کے پی ٹی میں تقرریوں سے متعلق کابینہ کا نوٹی فیکیشن طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم سونا عرف سونی کو بری کرنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس آسف سعید کھوسہ نے نچلی عدالتوں سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں جوکہا گیا وہ میڈیکل رپورٹ سے ثابت نہیں ہوا،30 بورپستول سے فائر ہوا اورملزم سے کارتوس برآمد کیا گیا،یہ باتیں نچلی عدالتوں کو کیوں نظرنہیں آتیں، ماتحت عدالتیں کس لیے بنائی گئی تھیں، سب کچھ ہم نے کرناہے تونچلی عدالتوں کی کیاضرورت ہے؟ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں قتل کیس کے ملزم کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ سونانامی ملزم پر 2004 میں صائمہ اعجازکوقتل کرنے کا الزام تھا ،ہائیکورٹ نے ملزم کی سزائے موت عمرقید میں تبدیل کردی تھی ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نچلی عدالتوں سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں جوکہا گیاوہ میڈیکل رپورٹ سے ثابت نہیں ہوا،30 بورپستول سے فائرہوا اورملزم سے کارتوس برآمدکیا گیا،یہ باتیں نچلی عدالتوں کو کیوں نظرنہیں آتیں،ماتحت عدالتیں کس لیے بنائی گئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں