بریکنگ نیوز: بھارت نے پھر چھیڑ خانی کر ڈالی ، پاکستان کو مہیا کیا جانیوالا پانی بند کرکےخطرناک دھمکی بھی دے دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) بھارتی وزیر گیجندرا سنگھ شیکھاوت نے پاکستان کو سپلائی کیا جانے والا پانی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ بھارتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سندھ طاس معاہدے کو نہیں چھیڑیں گے لیکن جو ہمارے حق کا پانی ہے وہ ہم واپس لے لیں گے

تاکہ ہم اس سے اپنی زراعت اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اس حوالے سے ریسرچ کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جسے ہم اپنے پاس رکھیں گے اور خود ہی استعمال کریں گے۔ سندھ طاس معاہدے کے علاوہ بھی کئی ایسے دریا ہیں جو پاکستان میں موجود دریاؤں سے جا کر ملتے ہیں اور جن کے حوالہ سے کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے لہٰذا وہاں کا پانی ہم اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ یاد رہے کہ بھارت نے اس سے پہلےسیلابی ریلوں کا رخ پنجاب اور گلگت بلتستان کی جانب موڑ دیا تھا۔ یاد رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان بریگیڈیئر مختار احمد نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گنڈا سنگھ والا پر اس پانی کا لیول 19 فٹ اور بہاؤ 56000 کیوسک ہے، جس کے باعث دریائے ستلج کے اطراف قصور میں 18 دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتہائی متاثرہ دیہاتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ شہریوں کی سہولت کے لیے قصور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 17 کیمپ قائم کئے گئے ہیں تاہم ان کیمپس میں کسی نے ابھی تک رہائش اختیار نہیں کی۔ انتہائی متاثرہ دیہات میں مستی کے، چدر سنگھ اور بکی ونڈ شامل ہیں۔ بریگیڈیئر مختار احمد نے بتایا کہ ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا آج گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس

سے گزرنے کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے دریائے ستلج کے ساتھ تمام اضلاع بشمول اکاڑہ، پاکتن، وہاڑی وغیرہ کی انتظامہ الرٹ ہے ساتھ ہی ساتھ پی ڈی ایم اے پنجاب، متعلقہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122, پاک فوج کے دستے تمام تیاریاں مکمل کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دریا کے اطراف نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کی منتقلی کا پلان تیار ہے اور ہنگامی کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔ فلڈ اپ ڈیٹ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ پر گدو کے مقام پر اس وقت درمیانے درجہ کا سیلاب ہے۔ اس کے علاؤہ تمام ملکی دریاؤں اور ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ خطرہ کے نشان سے نیچے ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے نے بتایا کہ راول ڈیم اس وقت اپنی گنجائش کے مطابق بھرا ہوا ہے، آئندہ ایک سے دو گھنٹوں میں اس کے اسپل ویز کھول دیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں