سلامتی کونسل میں پاکستان کے حامی اور مخالف ممالک کون کون سے ہیں ؟ فہرست سامنے آ گئی

نیویارک(ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بلائے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کس نے پاکستان کا ساتھ دیا اور کس نے مخالفت کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 5 اگست کے فیصلے میں بھارت نے قوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائیں تو پاکستان نے

سلامتی کونسل سے رجوع کیا تھا۔ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکان میں سے چار نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی اور ایک نے اس کی مخالفت کی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر 72 گھنٹے میں بلائے گئے اجلاس میں چین، امریکا، برطانیہ اور روس سلامتی کونسل میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے جبکہ اجلاس صرف فرانس نے پاکستان کے موقف کی مخالفت کی۔ذرائع کے مطابق روس نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں، شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔برطانیہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔سلامتی کونسل میں سفارتی فتح کے بعد پاکستان یہ مقدمہ اب دنیا کے منصفوں یعنی عالمی عدالت انصاف کے سامنے رکھے گا۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جلد سفارتی مہم شروع کرنے والے ہیں۔ کئی دہائیوں میں پہلا موقع ہے جب سلامتی کونسل میں کسی بھی قسم کے اجلاس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کا تنازعہ ایجنڈے پر تھا۔واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کو سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے استدعا کی تھی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈین حکومت کے جارحانہ اقدامات پر نظر ڈالی جائے۔پاکستان اس سے پہلے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسی موضوع پر دو خط لکھ چکا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر 1998 کے بعد پہلی بار بات چیت ہوئی۔ یاد رہے کہ

پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے جوہری تجربوں کے بعد اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1172 پر بحث ہوئی تھی۔سکیورٹی کونسل کا اجلاس کس طرح منعقد ہوتا ہے اور اس میں صورتحال کو کیسے زیر بحث لایا جاتا ہے اس پر بی بی سی اردو کے اعظم خان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفارتکاورں سے تفصیلی گفتگو کی۔ سابق سفارتکار شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ کونسل کے ’پانچ بڑے‘ پہلے بند کمرے میں اکٹھے ہونگے اور صلاح مشورہ کریں گے کہ اس معاملے میں آگے کیسے بڑھنا ہے۔ پہلے نتیجے پر بات ہوگی پھر بحث ہوگی۔ خفیہ طور پر پانچ ممالک مل کر صلاح مشورہ کرتے ہیں کہ نتیجہ کیا نکالنا ہے۔ اسی وجہ سے ہی اسے پانچ بڑی طاقتوں کی اجارہ داری کہا جاتا ہے۔‘اس اجلاس کے بعد بھی کونسل کے صدر کی طرف سے کوئی بیان سامنے آسکتا ہے جس میں دونوں ممالک کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس صورتحال میں تحمل کا مظاہر کرتے ہوئے مذاکرات کریں اور کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔’اگر اوپن ڈیبیٹ ہوتی ہے تو پھر قرارداد پر بحث شروع ہوگی جس میں اقوام متحدہ کے تمام 192 ممالک بھی حصہ لینے کے اہل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اجلاس ہفتہ کیا 20 دن تک بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔‘سابق سفارتکار تسنیم اسلم کے مطابق کونسل ابھی ’آؤٹ کم‘ پر بھی بات کرے گی۔ اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کونسل کے سامنے قرارداد کس شق کے تحت لائی جائے۔‘تسنیم اسلم کہتی ہیں کہ جنگی صورتحال کے خطرات کا تواتر سے جائزہ لینے کے لیے کونسل کوئی کمیشن بھی تشکیل دے سکتی ہے۔ اس سے قبل بھی جب مسئلہ کشمر پر دونوں ممالک کے درمیان جنگی خطرات بڑھ گئے تھے تو کونسل نے انڈیا پاکستان کمیشن بنا دیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مسئلے کے طور پر کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل غور کرتی رہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں