میری بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنی جان تو نہیں ہے عملی طور پر کشمیر جاکر جہاد کروں ، مگر میں ہندوستان سے کشمیر واپس لینے کے لیے یہ کام ضرور کرونگا ۔۔۔۔ بزرگ پاکستانی کالم نگار عبدالقادر حسن کی ایک خوبصورت تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) وہی ہوا جس کا ڈر تھا اور پچھلے چند روز سے تواتر کے ساتھ یہ خبریں سنی جا رہی تھیں کہ بھارت کوئی انہونی کارروائی کرنے والا ہے اور یہی ہوا ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے ٹیلی ویژن پر بھارتی چالاکی کا ایک نمونہ دیکھا ہے۔بھارت نے نہایت ہوشیاری سے راتوں رات

نامور کالم نگار عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کر کے اسے دلی کے ماتحت کر دیا ہے۔ یعنی بھارت نے کشمیروں پر شب خون مار دیا ہے، ویسے تو وہ پہلے بھی کسی نہ کسی بہانے نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا رہتا ہے لیکن اس بار تو اس نے کشمیر کے وجود کو ہی ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی تاریخ نئی نہیں، جب بھی کشمیر کے بارے کوئی خبر دیکھی تو جی چاہتا اندھے ہوتے تو کم از کم یہ ظلم تو نہ دیکھ سکتے۔ بزرگوں، جوانوں، عورتوں اور بچوں کی لاشیں، بھارت نے پہل کر دی ہے اور پاکستان کو للکارا ہے۔ بھارتی پوری کوشش میںہیں کہ پاکستان ردعمل کا اظہار کرے اور وہ اپنے ادھورے منصوبے کو مکمل کر دیں۔ درپردہ اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور ان کی پشت پر ہے اور وہ یہ وقت ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے۔ ہم ملک کے اندر اور باہرکہاں کھڑے ہیں اس کا صحیح علم ہمارے حکمرانوں کو ہے اور ان حالات میں کیا کرنا ہے اور ہم کیا کر سکنے کی پوزیشن میں ہیں کم از کم میں اس کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا۔ یہ ایک مشکل وقت ہے۔ پر سکون دانش اور حکمت سے کام لینے کا وقت ہے، ہمیں نہ تو دشمن کے جال میں پھنسنا ہے اور نہ ہی بزدلی دکھانی ہے۔پاکستانی قوم اور اس کے تمام لیڈر اگر کسی ایک بات پر متحد اور متفق ہیں

تو وہ بات بھارت دشمنی ہے ۔بھارتی اس کا ادراک رکھتے ہیں وہ وقتی طور پر تو خاموش رہے لیکن جیسے ہی ان کو خطے میں اور خاص طور پر افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی اور ان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ضایع گئی تو انھوں نے فوری طور پر کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو ختم کرنے کا نام نہاد بل منظور کر لیا۔ حالانکہ ان کے مائی باپ امریکی صدر ٹرمپ مودی کی کشمیر پر ثالثی کی درخواست کو پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں بیان کر چکے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ کے ثالثی کے بیان پر بھارت میں صف ماتم بچھ گئی تھی اور بھارتی رہنماؤں نے اسے جھوٹ قرار دیا لیکن وزیر اعظم مودی اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ بولے، ان وجوہات کی بنا پر بھارت میں شدید برہمی اور بے چینی کی کیفیت رہی ۔ چند ہفتوں سے بھارت ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہا ہے تا کہ پاکستان مشتعل ہو کر کوئی کارروائی کر گزرے اور بھارت پاکستان کو دنیا کے سامنے جارح ملک قرار دے کر اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔بھارت نے تقسیم ہندوستان کے بعد سے ہی کشمیر میں محاذ جنگ کھولا ہوا ہے، اس جنگ میں لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں، بھارت کی لاکھوں کی تعداد میں فوج نے کشمیر میں باقاعدہ ڈیرا ڈالا ہوا ہے جس میں اضافہ ہو تا رہتا ہے، وہ نہتوں پر حملہ آور ہے۔ کشمیری مجاہدین کے پاس اپنے بچوں اور ماؤں بہنوں کی ناکام حفاظت کے لیے ہاتھوں

میں پتھر ہوتے ہیں۔ درحقیقت قیام پاکستان کے ساتھ ہی مسلم دشمنی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ہندوؤں کا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے لیے ایک ملک حاصل کر لیا ہے، اس لیے انھیں اب بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں سوائے اس کے وہ ہندو مذہب اختیار کر لیں یہی رویہ ان کا کشمیروںکے ساتھ بھی ہے۔ بھارت مسلمانوں کے بارے میں ہندوؤں کے جو ارادے رہے ہیں ان کو کبھی چھپا کر نہیں رکھا گیا ۔ ہندو مسلم فسادات آزادی کے ساتھ ہی شروع ہو گئے تھے جو اب تک جاری ہیں۔ ان فسادات میں کمی یا شدت وقت کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے لیکن ان کا مقصد بہت واضح ہے کہ بھارت کی سر زمین سے مسلمانوں کا وجود ختم کردیا جائے۔بھارت میں مسلمانوںکا کیا حال رہا ہے اور کیاحال رہے گا، اس پر بحث کی ضرورت نہیں، یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس سے برصغیر کا ہر باشندہ آگاہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہندو جو پہلی بار آزاد ہوئے ہیں، اس سرزمین پر کسی دوسرے مذہب کو برداشت نہیںکر سکتے ۔ وہ اس حد تک تنگ نظر ہیں کہ دنیا کی واحد ہندو ریاست نیپال کے بھی درپے رہتے ہیں۔ کشمیر کو تو وہ اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہیں،اس لیے مسلمان بھارت کے آس پاس جہاں کہیں بھی ہوں، وہ ان کی برداشت سے باہر ہیں۔ روز اول کی مسلمان دشمنی ہندو کے اندر سے نکل کر اب اتنی توانا ہو گئی ہے کہ انھوں نے دن دہاڑے کشمیر

پر ڈاکہ ڈال دیا ہے ۔ آج کے جدید اور میڈیا کے ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے بزرگ کشمیری رہنماء سید علی گیلانی کا ایک پیغام نظر سے گزرا ہے۔انھوں نے دنیا کی مسلمان برادری سے کشمیریوں کی ہنگامی مدد کی اپیل کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر ہم سب مر گئے اور آ پ خاموش رہے تو آپ اﷲ تعالیٰ کے سامنے اس خاموشی پر جوابدہ ہوں گے ‘‘۔ جناب علی گیلانی نے مسلم دنیا کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بھارت کو انتہائی قریب سے جانتے ہیں، ان کی زندگی کشمیریوں کے لیے ایک الگ وطن اور جداگانہ تشخص کے خواب میں گزر رہی ہے ۔انھوں نے اگر مسلمان ملکوں سے اپیل کی ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کہا ہے ۔ وہ بھارت کے مکروہ ارادوں سے باخبر ہیں ۔ میں پاکستان میں بیٹھ کر جناب گیلانی کی اپنے قلم سے مدد تو کر سکتا ہوں لیکن میری بوڑھی ہڈیوں میں اب اتنی طاقت اور ہمت نہیں رہی کہ جہاد کے لیے کشمیر پہنچ سکوں ۔ میں ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ کشمیر کے لیے اپنا قلمی جہاد جاری رکھوں گا۔ میں علی گیلانی کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے اپنے مجاہدوں سے درخواست کرتا ہوں کہ کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے وہ سر پر کفن باندھ لیں ۔ مکار دشمن نے ایک بار پھر ہمیں للکارا ہے ۔ ہماری قوم میں ابھی اتنی جان باقی ہے کہ وہ دشمن کے لیے زندہ اور توانا ہے۔ الحمد ﷲ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں