کشمیر کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرکے بھارت نے جو چال چلی اس کا وزیراعظم عمران خان کو کیا جواب دینا چاہیے ؟ امریکہ میں مقیم خاتون کالم نگار کی جاندار تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) آزادی کشمیر کے تمام مجاہدین اور قائدین نظر بند اور جیلوں میں ڈال دیئے گئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے سیاسی دلاسوں کو سنجیدہ مت لیا جائے۔ہنود یہودو نصاری نے کشمیریوں کی نسل کشی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ کوئی بہت بڑی کارروائی کی جانب قدم بڑھائے جا رہے ہیں۔

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔تینوں اندر سے ایک ہیں۔ قرآن برحق ہے کہ یہ تینوں مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں، لیکن ظلم تو یہ ہے کہ مسلم ممالک بھی منافقانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ بزرگ مجاہد سید علی گیلانی نے درست کہا کہ اگر کشمیریوں کی نسل کشی کی گئی تو پوری امت مسلمہ ذمہ دار ہوگی۔جبکہ پاکستان سب سے بڑا مجرم ہوگا۔آج سری نگر اپنی سہیلی کی فون پر خیریت دریافت کی تو جواب میں پھر پاکستان کی سلامتی کی دعائیں سنائی دیں اور ہم خاموش کمزور بے بس معذور۔۔۔ کشمیر کشمیر کشمیر معافی کے ہیں طلبگار کہ ھم خود ہیں اسیر۔حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کی تہاڑ جیل میں بگڑتی صحت پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اْڑا رہا ہے۔ یاسین ملک پہلے ہی بہت سے عارضوں میں مبتلا ہے اور اگر اْس کے علاج و معالجہ کے حوالے سے اسی طرح کی سرد مہری اور عدمِ دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا تو اْن کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قیدی کی تمام بنیادی ضرورتیں پوری کریں۔ خاص کر جب قیدی بیمار اور کمزور ہو۔ ہندوستان کے اپنے شہری جب مجرم ہوکر قید کرلیے جاتے ہیں تو وہ اْن کی سلامتی اور قانونی چارہ جوئی کے لیے بین الاقوامی اداروں کے دروازے بھی کھٹکھٹاتے ہیں اور انہیں ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں،

لیکن آزادی اور اپنے سلب شدہ حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو یہ بھارت جب گرفتار کرتا ہے تو اس کے ذہن میں انتقامی جذبے کے بغیر کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ ریاست کے باہر جیلوں میں قید کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ بہت ہی متعصبانہ اور ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے، نہ وقت پر علاج کیا جارہا ہے، نہ معقول غذا فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی دوائیاں دی جاتی ہیں پاک فوج کے مطابق بھارت لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے ‘کلسٹر ٹوائے بم’ کا استعمال کر رہا ہے جس کی وجہ سے چار سال کے بچے سمیت دو شہری ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق بھارت جنیوا کنونشن اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے اور ایل او سی پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کلسٹر ٹوائے بم استعمال کیے جا رہے ہیں۔۔۔۔دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا ہے کہ اسرائیلی مشورے پر بھارت سویلین آبادی کو نشانہ بنار ہا ہے۔ میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ بھارت کی جارحیت اور فرسٹریشن کی تین وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو اسرائیلی مشیر یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ سویلین آبادی کو نشانہ بنائیں۔دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھاکہ اقوام متحدہ کا نوٹس نہ لینا دوسری وجہ ہے جبکہ تیسری وجہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا ہدف ہے۔میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے

مزید کہاکہ دفتر خارجہ کو چاہیے کہ بھارتی جارحیت کا معاملہ اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھائے۔۔۔وادی کشمیر میں سنگین صورتحال کے پیش نظر لگتا ہے کہ بھارت کشمیر اور پاکستان میں کوئی بہت بڑی کارروائی کی پلاننگ کر رہا ہے جس میں لاکھوں کشمیریوں کی جان کو خطرہ ہے۔حریت رہنما سید علی گیلانی نے بھی امت مسلمہ کے نام ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کشمیر میں حالیہ بھارتی ریاستی دہشت گردی اور نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بم گرائے جانے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت تاریخ کا بدترین قتل عام کرنے جا رہا ہے ، امت مسلمہ سے درخواست ہے کہ ہماری مدد کریں اگر ہم مرتے رہے اور آپ خاموش رہے تو اللہ کو جواب دینا پڑے گا ، اللہ ہم سب کی حفاظت کرے ، اللہ ہم سب کی حفاظت کرے ، جتنی چاہے بڑی کارروائی ڈال دے کشمیری اس کو بھی چھوٹا بنا دیں گے جیسا کہ کشمیری قوم دنیا کہ سب سے مضبوط ترین قوم بن کر ابھری ہے۔بھارتی سرکار نے سیاحوں اور امرناتھ کے ہندو زائرین کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انھیں جلد از جلد وہاں سے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔اس ایڈوائزری سے وادی میں تشویش اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ‘شدت پسندی کے خطرے، بطور خاص امرناتھ کے زائرین کو نشانہ بنائے جانے کی خفیہ اطلاعات اور وادی کی موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر سیاحوں اور امرناتھ یاتریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ فوراً واپس لوٹ جائیں۔اس ایڈوائزری کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور سیاحوں نے اپنے سامان باندھ کر واپس جانا شروع کر دیا ہے۔وادی کشمیر جیسے دنیا میں جنت کا ٹکڑا اْتر آیا ہو۔ قدرت کی بیش بہا خوبصورتیوں کا مرکز کہلانے والی سرسبز و شاداب وادی کشمیر۔جس کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے اور جنت میں پہنچنے کا احساس محسوس کرنے کی خواہش شاید ہی کوئی ایسا ہو جو دل میں نہ رکھتا ہو۔لیکن افسوس !اس بات پر ہے کہ اس حسین و سرسبز وادی یعنی وادی کشمیر کے لوگ ہمیشہ ہی ظلم وستم کا نشانہ بنے رہتے ہیں اور اسطرح یہ جنت کا حسین ٹکڑا جلادوں کے شکنجہ میں گھراہو ا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں