سیاسی تہلکہ ۔۔۔ فردوس عاشق اعوان کے تحریک انصاف کو خیر باد کہنے کی خبریں ۔۔۔ نامور شخصیت نے اندر کی خبر دے دی

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہد اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی وزیر اطلاعات مجھے بڑی عزیز ہیں لیکن میں ڈرتا ہوں اس وقت سے جب وہ حکومت کو چھوڑ رہی ہوگی اور موٹے موٹے آنسو گر رہے ہوں گے۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان

کو چھوڑنا تو ہوگا۔کیونکہ جس طرح کی وہ اپنی وزارت میں باتیں کر رہی ہیں تو انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ لیکن پھر وہ موٹے موٹے آنسو نہ گرائیں جیسے انہوں نے پیپلزپارٹی کو چھوڑتے وقت گرائے تھے۔فردوس عاشق اعوان پہلے پیپلزپارٹی کو ماں کہتی تھی اور اب اسی ماں کے خلاف باتیں کرتی ہیں۔مشاہد اللہ نے کہا کہ میں نے پہلے فواد چوہدری کو بھی کہا تھا کہ تم سے وزارت اطلاعات لے جائے گی۔یہ لوگ ایک دم کسی ایک کے اوپر صدقے واری جاتے ہیں۔ پرویز مشرف کی کابینہ کے اٹھائیس لوگ تو انہوں نے اپنی کابینہ میں رکھے ہوئے ہیں۔ اسد عمر کو آئی ایم ایف کے کہنے پر ہٹایا گیا۔حماد اظہر سے بھی چوبیس گھنٹوں کے دوران وزارت واپس لے لی گئی سمجھ نہیں آتی کہ ان کے فیصلے کہاں سے ہو رہے ہیں۔اسی حوالے سے ایک بار سینئیر صحافی کامران خان نے کہا تھا کہ عمران خان کی کابینہ ریڈی میڈ وزرا کا ایک مجموعہ ہے ان و زرا کو ریڈی میڈ کہا جا رہا ہے کیونکہ اس میں ان چہروں کی بھرمار ہو گئی ہے جو پیپلز پارٹی یا مشرف دور سے منسلک کئے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ 24 وزرا پر مشتمل ہے ان میں 12 وزرا اور 6 مشیر پیپلز پارٹی یا مشرف کے دور میں کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس حوالے سے جو نام لئے جاتے ہیں ان میں شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، فردوس عاشق اعوان شامل ہیں۔ یہ پیپلز پارٹی دور کے وزرا ہیں ان کے پاس وہی قلمدان ہیں جو پیپلز پارٹی دور میں تھے۔ فواد چودھری پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف دونوں کے ترجمان رہ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں