روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا، آخر یہ قصہ ہے کیا ؟ پڑھیئے تاریخ کے جھروکے سے اہم واقعہ

مورخین کے مطابق یہ آگ سب سے پہلے سرکس میکسمکس سے شروع ہوئی۔ یہ علاقہ شہر کے مرکز میں قائم ہے اور آج کے جدید روم کے کلوزیم کے قریب ہی واقع ہے۔ تاہم اس وقت اس عمارت کا نام و نشان نہ تھا۔ پھر یہ آگ پیلاٹائن ہل کی طرف پھیلی اور

پھر اس کے بعد سییلین ہل کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت وہاں ایک سرکس لگا ہوا تھا۔ تیز ہوا کے ذریعے سے اس آگ نے سرکس میں لگی لکڑیوں اور اس کے کپڑوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اس کے قریب ہی رومیوں کی رہائش گاہیں تھیں۔ نیرو یہاں سے 40 میل کے فاصلے پر سٹی آف انٹم میں موجود تھا۔ مورخین کے مطابق آگسٹس اور اس کی بیوی کے برعکس اسے آگ بجھانے میں کوئی دلچسپی نہ تھی اور نہ ہی وہ شہر کو بچانا چاہتا تھا۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ آگ کے پھیلنے کے بعد وہ اپنے شہر سے بھاگ نکلا۔ کیونکہ آگ کے شعلے Domus Transitoria کے قریب پہنچ چکے تھے۔ یہ وہی جگہ ہے جس کی پیلا ٹائن ہل نامی پہاڑی پر اس کا محل واقع تھا۔ آگ کو پھیلتے دیکھ کر پہلے اس نے اپنے باغات کا جائزہ لیا۔ اپنے کھانے پینے کے سامان کو محفوظ بنایا اور پھر وہا ں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ دوسرے بادشاہوں کے برعکس اس نے فائر بریگیڈ کو منظم کرنے پر کوئی توجہ نہ دی تھی۔ مورخ کے مطابق اس وقت فائر بریگیڈ کے عملے کو آگ بجھانے سے روک دیا گیا تھا۔ آگ بجھانے کے لیے کوئی آگے نہ بڑھا، پھیلتی ہوئی آگ کی لپیٹ میں آ کر بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا اندیشہ تھا۔ لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے یہ لوگ آگ کیوں نہیں بجھاتے، انہیں ایسا کرنے کا اختیار ہے لیکن ان کی چیخ و پکار پر کسی

نے کان نہ دھرا۔ بلکہ بہت بڑے پیمانے پر وہاں لوٹ مار ہوئی۔ شاید یہ لوٹ مار کہیں سے ملنے والے احکامات کے نتیجہ میں ہوئی۔ پھر آیا، 24 جولائی 6 دن میں آگ کے شعلے ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ یہ آگ Esquiline hill پہنچ کر خود ہی ٹھنڈی پڑ گئی۔ ٹھوس پتھریلی چٹانوں اور عمارتی ملبے نے اس آگ کو وہیں روک لیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس آگ کو بجھانے کے لیے لوگوں نے خود ہی اپنے مکانات کو گرا دیا یا وہاں پر ملبے کے ڈھیر جمع کیے۔ 26جولائی کو بجھی ہوئی آگ پھر بڑھک اٹھی اس مرتبہ یہ آگ نیرو کے اپنے محل میں لگی۔ جو Tigellinus کہلاتا ہے۔ یہ آگ 3 دن تک بھڑکتی رہی۔ اس آگ نے روم کے 14 میں سے 10 اضلاع کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا جبکہ 3 اضلاع کا تو نام و نشان ہی باقی نہ رہا۔ صرف ایک ہی علاقہ محفوظ رہا اور وہ تھا Transtiberim یہ علاقہ ٹرایبل آئر لینڈ میں واقع ہے اور کیمپس مارتھیس کے جنوب میں ہے۔ اگست 64ء سن عیسوی میں Severus نامی آرکیٹکٹ اور Celer نامی انجینئر نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ سب سے پہلے نیرو نے اپنا محل بنانے کا خواب دیکھا، جسے گولڈن ہاؤس کہا جاتا ہے۔ یہی وہ ایک وجہ ہے جس کے لیے لوگ کہتے ہیں کہ آگ نیرو نے خود لگائی۔ کیونکہ سب سے زیادہ فائدہ نیرو کو پہنچا کیونکہ آرکیٹکٹ اور انجینئر پہلے سے تیار تھے۔ چند ہفتوں کے اندر اندر محل کی تعمیر شروع ہو گئی۔ یہ محل تباہ حال جلے ہوئے مکانات کے ملبے پر بنایا گیا۔ نیرو نے اپنے محل کو اسی طرح چھوڑ دیا تھا، یہ ایک اور محل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نیرو نے ایک مذہبی فرقے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ وہ کہتا ہے کہ عیسائیوں نے اپنے مقصد کے لیے شہر کو جلایا۔ نیرو نے گھروں کی تعمیر کے لیے نئے ڈیزائن کی منظور دی۔ اس نے چھتوں کو فلیٹ بنانے کی ہدایت دی تا کہ ان پر چڑھ کر آگ کو دوسروں گھروں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں