ایک ہی شہر میں 40 بچوں کے ساتھ زیادتی کروانے والے مجرم عدالت نے کیا سزا سنا دی اور یہ شخص کس طرح واردات ڈالتا تھا ؟ ناقابل یقین خبر

میونخ (ویب ڈیسک) جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ‘آئش والڈ‘ کیمپنگ سائٹ سے منسلک بچوں کے جنسی اسکینڈل کے کیس میں بدھ کے روز پہلا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ ڈیٹمونڈ کی علاقائی عدالت نے انچاس سالہ ہائیکو وی کو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں تعاون کرنے اور دوسرے لوگوں کو اس عمل کے لیے

حوصلہ دینے کے الزام میں دو سال تک پولیس کے نگرانی میں رہنے کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ اس ملزم کو اپنا جنسی رویہ بہتر بنانے کے لیے تھیراپی کے ایک کورس میں بھی حصہ لینا ہو گا۔ اس مقدمے میں شامل تینوں ملزمان نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات قبول کر لیے ہیں۔ ان تینوں ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز جون میں کیا گیا تھا۔ اس کیس میں دیگر دو مرکزی ملزمان کے خلاف ایک الگ مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور اس کا فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ ہائیکو وی کے برعکس دیگر دو ملزمان آندریاس وی اور ماریو ایس اس اسکینڈل کے دو مرکزی ملزمان ہیں۔ یہ دونوں جرائم کے وقت کیمپنگ سائٹ پر موجود تھے اور انہیں سزائیں بھی سخت سنائی جائیں گی۔ ہائیکو وی کو آج اس بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے کہ اس مجرم نے سن دو ہزار دس اور گیارہ کے درمیان متعدد مرتبہ ویب کیمرے کے ذریعے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے مناظر لائیو دیکھے تھے۔ اس کے علاوہ مجرم کے قبضے سے بچوں کی اکتیس ہزار عریاں تصاویر اور گیارہ ہزار پورن ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں۔ عدالت کے مطابق ہائیکو وی ماضی میں سزا یافتہ نہیں ہیں اور انہوں نے خود بھی کبھی کسی بچے کے ساتھے جنسی زیادتی نہیں کی، اسی وجہ سے انہیں نرم سزا دی گئی ہے۔ ہائیکو وی پہلے ہی سات ماہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ وکلائے استغاثہ نے عدالت سے ملزم کے لیے انتیس ماہ قید کی سزا سنانے کی اپیل کی تھی۔ اس کیس کے مرکزی ملزم آندریاس وی کی عمر چھپن برس ہے اور وہ اس کیمپنگ سائٹ پر مستقل رہائش اختیار کیے ہوئے تھے۔ ان پر سن دو ہزار آٹھ سے دو ہزار اٹھارہ کے درمیان درجنوں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا الزام ہے۔ اس ملزم کے گھر سے 14 ٹیرا بائٹس پر مشتمل تصاویر اور ویڈیوز ملی ہیں، جن کا حکام ابھی جائزہ لے رہے ہیں۔ ملزم کے کمپیوٹر سے ایسی سینکڑوں تصاویر اور فحش فلمیں ملی ہیں، جن میں ملزم کو بچوں سے جنسی زیادتی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کیس میں مقامی پولیس کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پولیس بروقت کارروائی نہ کرنے اور شواہد سے بھرے ایک مکمل بریف کیس کو ضائع کر دینے کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے.(بشکریہ ڈوئچے ویلے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں