سپریم کورٹ سے بڑی خبر : اب قتل کے کیس میں اگر تفتیش میں یہ کمی رہ گئی تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جائے گا ۔۔۔۔ اہم ترین کیس میں ریمارکس

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے ملزم شیر زمان کی عمرقید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ویڈیو لنک کے ذریعے کوئٹہ رجسٹر سے وکلاء نے دلائل دئیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر فائرنگ کرنے

والے لوگوں کے 10 نام دئیے جائیں گے تو کیا سب کو پھانسی دے دیں گے؟۔ انہوں نے کہاکہ پتا تو ہونا چاہیے کہ فائرنگ کس نے کی۔ وکیل نے کہاکہ دو ملزمان نے سامنے سے فائرنگ کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ واقعہ تو ہوا ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جب زیادہ ملزمان فائرنگ کر رہے ہوں تو یہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ کس نے فائرنگ کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر چار ملزمان کی جگہ پانچ ملزمان کے نام لکھوا دئیے جائیں تو عدالت کو فیصلے میں احتیاط کرنی چاہیے۔چیف جسٹس نے کہ قتل کی وجہ معلوم نہ ہو تو اس کافائدہ ملزم کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وجہ عناد معلوم نہ ہو تو سزا پر فرق پڑتا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر کے غلط فیصلہ نہیں کیا۔ عدالت نے کہاکہ ایف آئی آر میں بھی قتل کی وجہ نہیں لکھی گئی۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ تازہ ترین خبروں ، تجزیوں اور کالم سے اپ ڈیٹ رہنے کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزٹ کریں یا پھر فیس بک پیج کو لائیک کریں. شکریہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں