نواز شریف کی رہائی اور مریم نواز کا سیاسی کیرئیر ہمیشہ کے لیے ختم ۔۔۔۔ سینئر صحافی کامران خان پاکستانیوں کو بڑی خبر دے دی

لاہور (نیوز ڈیسک) احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو گذشتہ ہفتے سے ہی موضوع بحث بنی ہوئی ہےا ور اس ویڈیو کے اصلی یا جعلی ہونے سے متعلق بھی کئی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے اصلی اور جعلی ہونے کا معاملہ جتنا اہم ہے اتنا ہی اہم یہ بھی ہے کہ اگر

یہ ویڈیو اصلی قرار پائی تو سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل سے رہائی مل سکتی ہے بصورت دیگر مریم نواز جس سیاست کے لیے رات دن محنت کر رہی ہیں ، اُن کا وہی سیاسی کیرئیر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا۔اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار کامران خان نے کہا کہ مریم نواز کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے حوالے سے دکھائی گئی ویڈیو سچی ہے تو نواز شریف جیل سے باہر آسکتے ہیں لیکن اگر یہ ثابت ہوگیا کہ ویڈیو ایڈٹ کی گئی، دوبارہ بنائی گئی یا اس میں جوڑ توڑ ہے تو مریم نواز کا سیاسی کیریئر ختم ہو سکتا ہے اور وہ گرفتار بھی ہوسکتی ہیں۔کامران خان کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک نے اس ویڈیو کو مسترد کر دیا ہے لیکن ان کی پریس ریلیز میں کہیں اقرار تھا اور کہیں یکسر انکار موجود تھا۔ انہوں نے ویڈیو کو حقائق کے برعکس کہا اور کہا کہ مجھ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی دباؤ نہیں تھا لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بیان بھی دیا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمہ کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے رشوت پیش کی گئی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔میزبان کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک نے ویڈیو کے گواہ ناصر بٹ سے اپنی پرانی شناسائی کو تسلیم بھی کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف دو مختلف مؤقف دے چکی ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے فرانزک آڈٹ کروانے کا کہا اور معاون خصوصی شہزاد اکبر نے عدلیہ کو ایکشن لینے کا کہا۔ چونکہ شہزاد اکبر کا بیان بعد میں آیا اس لئے شاید حکومت دیکھنا چاہتی ہے کہ معاملے کا عدالتی رخ کیا سامنے آتا ہے۔ وزیر اعظم عمران کا بھی بیان آیا کہ عدلیہ آزاد و خود مختار ہے ۔ حکومت کو اس معاملے میں پارٹی نہیں بننا چاہئیے،اُن کا کہنا تھا کہ قانونی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے اس معاملے کو عدالت کو ہی دیکھنا چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں