سچ بولنے سے حق بیان کرنے سے حقیقت عوام کے سامنے رکھنے سے اسلام آباد میں قیام کا امکان ختم ہو جائے گا۔۔۔۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر نامور صحافی نے یہ معنی خیز بات کیوں کہہ ڈالی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) آصف زرداری گرفتار ہو چکے، اس مقدمے میں انہیں سزا ہوتی ہے یا نہیں، قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری ہوتے ہیں یا نہیں، انکا سیاسی مستقبل کیا ہوتا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی اس گرفتاری پر کیا حکمت عملی ترتیب دیتی ہے، پیپلز پارٹی کا ووٹر، ورکر اور سپورٹر

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس گرفتاری پر کیسا ردعمل دیتا ہے، حکومت اس مسئلے سے کیسے نمٹتی ہے، اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتیں اس سیاسی صورتحال کا کیسے فائدہ اٹھاتی ہیں، متحدہ اپوزیشن اس کیس پر کیسے سیاست کرتی ہے، کیا پاکستان کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے، کیا موسم گرما میں ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں بھی شدت آئے گی، کیا یہ گرفتاری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے، کیا پاکستان میں احتساب کا عمل سیاست کی نظر ہو رہا ہے، کیا ملک میں احتساب کی گاڑی میں صرف مخصوص افراد کو بٹھایا جا رہا ہے، کیا احتساب کا نشانہ صرف حزب اختلاف کی جماعتیں ہیں، کیا نیب صرف حکومت مخالفین کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، کیا حکومت نیب پر اثرانداز ہو رہی ہے، کیا آصف علی زرداری کی جماعت کے سیاست دان کرپشن میں ملوث نہیں رہے ہیں، کیا سیاسی قیادت کا دامن صاف ہے، ہمیشہ اپوزیشن کے لوگ ہی جیلوں میں کیوں جاتے ہیں، کیا کبھی پاکستان میں حقیقی احتساب ہو پائے گا، کیا ملک لوٹنے والوں کو کبھی سزا مل سکے گی، کیا سیاست دانوں نے کرپشن کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، کیا پارلیمنٹ لٹیروں کو کڑی سزا دینے میں کامیاب رہی ہے، کیا عوامی نمائندے ملکی دولت کے تحفظ میں کامیاب رہے ہیں، کیا عوامی نمائندوں نے عوام کے سرمائے کی حفاظت کی ذمّہ داری نبھائی ہے، کیا عوامی نمائندوں نے کرپشن الزامات پر کبھی سچ بولا ہے، کیا ہمارا نظام چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کو سزا دینے کے قابل ہے،

کیا ہمارے نظام میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مافیا کے سامنے کھڑے ہو سکیں اور انہیں قومی دولت لوٹنے سے روک سکیں، کیا آصف علی زرداری کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سیاسی شخصیات پر قائم مقدمات میں پراسیکیوشن کردار کمزور کیوں ہوتا ہے، تحقیقاتی ادارے قائم مقدمات کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر کامیاب کیوں نہیں ہوتے، کیا ایسے مقدمات میں سو فیصد ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی جاتی ہیں، سیاسی شخصیات پر قائم کرپشن کے مقدمات کے فیصلے عوامی سطح پر مقبول کیوں نہیں ہوتے، عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔آج یہ اور ان سے ملتے جلتے درجنوں سوالات عوام کے ذہنوں میں ہیں۔ ایسے تمام مقدمات میں نیب کی بنیادی ذمہ داری کیس کا دفاع، ناقابل تردید ثبوت اور شواہد کو پیش کرنا ہے، ایسے ثبوت جنہیں ناصرف عدالت میں تسلیم کیا جائے بلکہ وہ ثبوت عوام کے سامنے بھی رکھیں جائیں تو انہیں جھٹلایا نہ جا سکے، نیب کی ذمہ داری صرف کیس قائم کرنے کی نہیں ہے اس کی اصل ذمہ داری اپنے کیس کو ثابت کرنا ہے، ایسے ثبوت اور شواہد اکٹھے کرنا ہیں جنہیں دنیا کی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہ کیا جا سکے، کئی کئی سال تفتیش کی جائے، پھر ملزم گرفتار ہو اور بعد میں ثبوتوں کی عدم دستیابی پر وہ بری ہو جائے تو نظام انصاف پر اعتماد کون کرے گا۔ ملزم سے مجرم تک ایک لمبا سفر ہے اور اس سفر کو کامیاب بنانے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا نیب کی ذمہ داری ہے۔

کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے تو کوئی گناہگار بھی باہر نہیں ہونا چاہیے۔ عوامی سطح پر ایسے مقدمات کی پذیرائی اس لیے نہیں ہوتی کیونکہ عوام کی بڑی تعداد حقائق سے لاعلم ہوتی ہے، دوسرا کمزور شواہد کی بنیاد پر بری ہونے کی وجہ سے کرپشن کے ملزمان عوام کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تیسرا کمزور نظام کے باعث ہمیشہ کرپشن کیسز حکومتوں کے خاتمے کے بعد بنتے ہیں۔ حزب اقتدار سے حزب اختلاف کے بنچوں پر آنے کے بعد کرپشن کیسز کے آغاز سارے عمل کو ابتدا سے ہی مشکوک بنا دیتا ہے۔ اس وجہ سے عوامی سطح پر ایسے مقدمات کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے ایک بڑا حصہ انتقامی کارروائی سمجھتا ہے۔اس کیس میں سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ کیا آصف علی زرداری نے کبھی کرپشن نہیں کی، کیا وہ کبھی کسی کرپشن میں ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ ملوث نہیں رہے، کیا وہ قوم کے سامنے سچ بول کر ایسے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے میں سب سے اہم اور تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں، کیا وہ سچ بولیں گے، کیا وہ قوم کو بتائیں گے کہ وائٹ کالر جرائم نے اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، کیا وہ قوم کو بتائیں گے کہ ان کے سامنے، انکی سرپرستی میں، انکے علم میں لا کر اس ملک کے سرمائے کو، غریب عوام کے پیسے کو کس بیدردی سے لوٹا گیا ہے، کیا وہ قوم کو بتائیں گے کہ اس گھناونے کھیل میں ریاست کے ملازم بھی سیاست دانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں،

کیا وہ قوم کو بتائیں گے کہ ایسے سب جرائم میں کوئی نشان نہیں چھوڑا جاتا، کیا وہ قوم کو بتائیں گے کہ ایسے کیسز درست ہیں لیکن ان جرائم کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے، کیا وہ قوم کو بتائیں گے کہ ایسے کیسوں میں لینے اور دینے والے دونوں کا فائدہ ہوتا ہے، کیا وہ قوم کو بتائیں گے کہ کرپشن بھی ہوئی ہے اور قوم بیوقوف بھی بنایا گیا ہے، کیا وہ وہ قوم کو بتائیں گے کہ اب تک ان سے غلط بیانی کی جاتی رہی ہے۔یقینا وہ یہ کبھی سچ نہیں بولیں گے۔ نہ وہ خود بولیں گے نہ اس گناہ میں ان کے شریک کبھی اتنی ہمت کریں گے۔ نہ نظام میں موجود اس گھناؤنے کھیل میں شریک غداروں کو کبھی یہ خیال آئے گا۔ وہ قوم کو لوٹتے رہے ہیں لوٹتے رہیں گے کیونکہ وہ عادی چور ہیں، چور چوری چھوڑ بھی دے ہیرا پھیری سے تو باز نہیں آئے گا۔جہاں تک پارلیمنٹ کی بات ہے تو وہاں وائٹ کالر کرائم میں شریک تمام بڑے اور نام نہاد نیک نام اکٹھے بیٹھتے ہیں اس لیے نہ ماضی میں اس حوالے سے کوئی کام ہوا نہ اب ہونے دیا جائے گا اور یہی لوگ نظام حکومت چلاتے رہے تو مستقبل میں بھی اس حوالے سے بہتری کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا گٹھ جوڑ اس نظام کی بدترین مثال ہے جب دونوں ایک دوسرے کے وائٹ کالر کرائم کو بچانے کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔اب آئیں اس مسئلے پر کہ احتساب کا ادارہ اور نظام متنازعہ کیوں ہو جاتا ہے۔

موجودہ نظام پر تنقید اس لیے کی جاتی ہے کہ اسے صدر پرویز مشرف کے دور میں متعارف کروایا گیا چونکہ سیاسی جماعتوں کے قائدین یہ سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف سیاسی نہیں تھے اس لیے ان کا متعارف کردہ نظام قابل قبول نہیں ہے تو دوسری طرف میاں نواز شریف کا سیف الرحمان کے دور کا احتساب بھی سیاسی انتقام کی نذر ہوا۔ یوں دونوں ادوار میں احتساب کے نظام کو خود عوامی نمائندوں نے متنازعہ بنایا ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی ادوار میں اس اہم ترین شعبے کو بری طرح نظر انداز بھی کیا گیا ہے۔ جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں کا اس شعبے کو نظر انداز کرنے کی بنیادی وجہ ہی کرپشن کا فروغ اور ملکی خزانے کو لوٹنا ہے۔ یہ کام اب تک بخوبی کیا جاتا رہا ہے اس لوٹ مار کے نتیجے میں عوام کے لیے زندگی تنگ ہوئی ہے اور ان کا نظام پر اعتماد ہر گذرتے دن کے ساتھ کم ہوا ہے۔غلطیاں انسانوں سے ہوتی ہیں، لالچ کا شکار بھی انسان ہوتا ہے، حسد میں مبتلا بھی انسان ہی ہوتا ہے، مال جمع کرنے کی حرص بھی انسان کو ہوتی ہے۔ ان تمام برائیوں سے نجات کا ذریعہ اعتراف اور سچ بولنا ہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ملکی خزانے کو لوٹنے والے وسیع تر ملکی مفاد اور عوامی محبت میں یہ سوچ بول کر قوم کی اذیت کو کم کریں اور ملک کو ترقی کی طرف سفر میں اپنا کردار ادا کریں، برائی سے اچھائی جنم لے سکتی ہے، اعتراف سے بھلائی ہو سکتی ہے۔ لیکن کیا عوامی نمائندے عوام کی ہمدردی میں ایسا کریں گے۔نہیں یقینا نہیں، ایسا کرنے سے دوبارہ حکومت میں آنے کا امکان ختم ہو جائے گا اور جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں کا واحد مقصد اسلام آباد میں مستقل قیام ہے۔ سچ بولنے سے حق بیان کرنے سے حقیقت عوام کے سامنے رکھنے سے اسلام آباد میں قیام کا امکان ختم ہو جائے گا۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں