بریکنگ نیوز : امریکہ اور ایران کے درمیان حالات کشیدہ ، کس ملک کی فوج کو فیصلہ کن احکامات جاری ہو گئے ؟ تازہ ترین خبر

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر جملوں کی گولہ باری کرتے ہوئے سخت الفاظ میں ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان لڑائی ہوئی تو ایران تباہ ہو جائے گا۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا

کہ امریکہ کو دوبارہ دھمکانے سے گریز کیا جائے اوراگر ایران جنگ چاہتا ہے تو یہ باقاعدہ طور پر ایران کا خاتمہ ہو گا۔ امریکی صدر کی جانب سے یہ پیغام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ امریکہ نے رواں ماہ کے دوران خلیج فارس میں مزید جنگی جہاز اور طیارے تعینات کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل ایران سے جنگ کے امکانات کو رد کرتے رہے ہیں تاہم یہ ٹویٹ ان کے رویے میں تبدیلی کی عکاسی کر رہی ہے۔ چند دن قبل ہی امریکی صدر نے اپنے مشیروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران پر امریکی دباؤ لڑائی کی شکل اختیار کرے۔ گزشتہ جمعرات کو جب صحافیوں نے ان سے دریافت کیا تھا کہ آیا امریکہ ایران سے جنگ کرنے جا رہا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا۔ صرف امریکہ کی جانب سے ہی بلکہ ایران نے بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود جنگ کے امکانات کو رد کیا تھا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک جنگ کا خواہشمند نہیں ہے۔ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ کوئی جنگ نہیں ہو گی کیونکہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور کوئی اس فریبِ نظر کا شکار بھی نہیں ہے کہ وہ خطے میں ایران کو چھیڑ سکتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کا آغاز ایران کی جانب سے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی شرائط پر

عملدرآمد معطل کرنا بنی۔ ایران نے یورینیئم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی۔ یہ یورینیئم جوہری ری ایکٹر کا ایندھن اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے خلیج میں ’یو ایس ایس ابراہام لنکن‘ بحری بیڑے کو خطے میں تعینات کیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں ایک لاکھ 20 ہزار فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ادھر امریکہ نے عراق سے سفارتی عملے کو نکلنے کے احکامات جاری کیے ہیں جس کی وجہ امریکی فوج کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات کو خطرہ بتایا جا رہا ہے۔ جرمنی اور نیدرلینڈ کے فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے عراق میں جاری عسکری ٹریننگ پروگرام معطل کر دیے ہیں۔دوسری جانب خبر آئی یے کہ روس نے کہا ہے کہ بہت سے مسائل بارے امریکی حکومت کا موقف تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جس کی وجہ دونوں کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔ روسی صدر کے دفتر کے ترجمان پسکوف نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا کہ باوجود اس کے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن سے ملاقات کے لئے بارہا اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ سوچی مذاکرات میں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی ممکنہ ملاقات کے بارے میں کوئی واضح تجویز نہیں دی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی اس پروگرام میں کہا کہ روس امریکاکو قومی مفادات کے منافی کوئی بھی رعایت نہیں دے گا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ سوچی میں اپنے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ تمام ملکوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے دوسرے فریق کی بات بھی سننی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں