بھارتی انتخابات : نتائج کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن شروع۔۔۔۔۔ مودی سرکاری دوبارہ نہیں آ رہی کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔ اب تک کی سب سے بڑی اور جاندار پیشگوئی کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت کا انتخاب ابھی ختم نہیں ہوا کہ الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سروے جاری ہوا ہے جس میں مودی کے لیے بہت بری خبریں ہیں اس طرح کے سروے تین میڈیا چینل نے بھی کر رکھے ہیں۔جو آخری مرحلہ ختم ہوتے ہی انیس مئی کو جاری ہو جائیں گے۔

نامور کالم نگار وکیل انجم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔البتہ ا غیر ملکی ادارے کے اس سروے کو جاری کرنے والے تین میڈیا ہاوسیز کو نوٹس جاری ہوچکے ہیں۔ اس سروے میں اتر پردیش میں مہا گٹھ بند ھن بی جے پی سے بہت آگے نکل گیا ہے اور ملک بھر میں بی جے پی دو سو نشستوں کا ہدف عبور نہیں کر پارہی وہاں بی جے پی کو اس بار اتر پردیش سے 20 سے بھی کم سیٹیں ملنے کا امکان ہے ۔ یعنی محض اتر پردیش سے بی جے پی کو کم از کم 50 سیٹوں کا خسارہ ہونے کا امکان ہے سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد سے زیادہ تر پسماندہ اور دلت ذاتیں اس اتحاد کو ووٹ کر رہی ہیں۔ پھر یو پی کا مسلمان بھی عقلمندی سے بی جے پی کو ہرانے والے نمائندہ کو ووٹ دے کر یو پی میں بی جے پی کے تابوت میں کیل ٹھوک رہا ہے۔ کیا، 2014 نتخاب میں تو مودی لہر کا الیکشن تھا۔ ایک اتر پردیش ہی نہیں بلکہ تمام ہندی بولے جانے والے علاقہ میں مودی کا ڈنکا بج رہا تھا۔ مثلاً دہلی کی تمام 7 سیٹیں بی جے پی نے جیتی تھیں۔ راجستھان کی 26 کی 26 سیٹیں بی جے پی کو ملی تھیں۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کو محض دو سیٹیں ملی تھیں۔ باقی تمام سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں گئی تھیں۔ یہی حال چھتیس گڑھ، بہار اور جھاڑکھنڈ میں تھا۔ ان تمام صوبوں میں 80 فیصد سے زیادہ سیٹیں بی جے پی کی تھیں۔

پھر ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش میں بھی بی جے پی اور اس کے حلیفوں کا پرچم لہرا رہا تھا۔ مگر اس بار صورت حال بدل چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق ان تمام صوبوں میں کم از کم بی جے پی کو 50 فیصد سیٹوں کا نقصان یقینی ہے۔ یعنی یو پی گیا اور باقی ہندی علاقہ بھی خسارے میں۔ یعنی مشکل اور بڑھ گئی۔ جنوبی ہندوستان۔ کیرالہ میں کل 20 سیٹوں میں سے ایک سیٹ بھی بی جے پی کو ملتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ برابر میں تامل ناڈو کی 39 سیٹوں میں کانگریس اور اس کی حلیف ڈی ایم کا پرچم لہرائے گا۔ کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی (ایس) اتحاد کے بعد بی جے پی کو پچھلی بار (17) سے کم سیٹیں ہی ملیں گی یعنی ہندی علاقہ کا خسارہ جنوبی ہندوستان سے دور ہونا تودور، یہاں بھی نقصان بڑھ ہی رہا ہے۔ شمالی ہندوستان جو مودی کا مرکز ہے۔ یعنی گجرات و مہاراشٹرا۔ پچھلی بار گجرات کی 26 میں سے 26 سیٹیں مودی نے جیتی تھیں۔ اس بار کانگریس کو کم از کم 6 سیٹیں مل رہی ہیں۔ مہاراشٹر میں چناؤ کے اعلان کے وقت تک شیو سینا اور بی جے پی آپس میں دست و گریباں تھے۔ چناؤ میں ساتھ آ گئے۔ لیکن زمین پر یہ اتحاد نظر نہیں آیا۔ پھر یہ وہ صوبہ ہے جہاں مودی سے پریشان کسانوں نے مودی کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ اب بھلا وہ مودی کو ووٹ کیوں کریں گے۔ شرد پوار اور کانگریس کا اتحاد یہاں کافی مضبوط ہے۔

ساتھ ہی یہاں راج ٹھاکرے مودی کے خلاف تشہیر کر رہے تھے جو عوام میں مقبول ہیں۔ وہ کھل کر کہہ رہے تھے کہ کانگریس اور شرد کی این سی پی کو ووٹ ڈالیے۔ یعنی شمالی ہندوستان میں بھی مودی کمزور ہو چکے ہیں۔ مشرقی ہندوستان، یعنی آسام، نارتھ ایسٹ اور بنگال کا علاقہ۔ اس کے بارے میں امیت شاہ چھ مہینوں سے شیخی بگھار رہے تھے۔ کہتے تھے کہ آسام اور نارتھ ایسٹ تو ہمارا ہے ہی، بنگال سے کم از کم 26 سیٹیں اور جیتیں گے۔ اب ذرا پہلے بنگال پر نگاہ ڈال لیجیے۔ صاحب وہاں تو ممتا دیدی نے مودی کے خلاف قہر ڈھا دیا۔ مودی نے وہاں چناو میں ہندوؤ ں کو بھڑکانے کے لیے کہا کہ ممتا کے راج میں تو درگا پوجا بھی مشکل ہو گئی۔ بس ممتا نے ہر تقریر میں ہندوؤں سے پوچھنا شروع کیا کہ بتاؤ درگا پوجا ہوتی ہے کہ نہیں ، کالی پوجا ہوتی ہے کہ نہیں ، عید اور رمضان منایا جاتا ہے کہ نہیں ، کرسمس ہوتا ہے کہ نہیں ۔ نیچے سے عوام ممتا کے ہر سوال پر ہاں، ہاں میں جواب دیتی ہے۔ یعنی ہندو-مسلمان کی کھائی پیدا ہونے کے بجائے ہندو-مسلم اتحاد پیدا ہو گیا۔ پھر وہاں کم از کم 25 فیصد مسلم آبادی ہے۔ وہ 90 فیصد ممتا کے پرچم تلے اکٹھا ہو گئی۔ یعنی بنگال میں بھی امیت شاہ کی تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور وہاں بی جے پی کو پچھلی بار سے بھی کم سیٹوں پر صبر کرنا ہوگا۔ آسام اور نارتھ ایسٹ میں سٹیزن بل نے بٹوارا کر دیا۔ اس لیے ان علاقوں میں بھی 2014 جیسی حالت نہیں رہ گئی۔

اس سروے سے تو حکمران جماعت کی ہوا اکھڑ چکی ہے۔خدشہ ہے مودی اور امیت کی جوڑی گجرات والا کام نہ دکھا دے ،جس کا آغاز ہو چکا ہے۔ یوگی ممتا بینر جی کو صدام حسین اور بغدادی جیسے القاب سے نوازا جارہا ہے و زیر اعظم مودی سے لے کراتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی تک آخری بازی جیتنے کے لیے بد زبانی کی انتہا کو پہنچ چکے . بی جے پی نے کلکتہ کے ایک جلسے کے بعد جس میں امیت شاہ اور یوگی بھی شامل تھے، کلکتہ کے بازاروں میں ایسی آگ اور خون کی ہولی کھیلی کہ تقسیم کا زمانہ یاد آگیا مودی نے بھی صوبہ بہار میں اپنی آخری اور دسویں ریلی سے جذباتی خطاب کیا اور اپوزیشن کو للکارتے ہوئے کہا کہ چن چن کر گالیاں دی جارہی ہیںاس کے باوجود مودی کا دعوی تو یہ کہ میں پھر وزیر اعظم بن کر ترقی کی گنگا لے کر آپ کے درمیان ہوں گا ۔ مودی جس حد تک جا سکتے تھے گئے ۔انہوں نے راجیو گاندھی کا ایشو ایسے موقع پر اٹھایا کہ جب چھٹے مرحلے کے لئے دہلی میں انتخاب ہونے والے تھے۔ مودی نے دہلی کے لوگوں کو یاد دلایا کہ کس طرح اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس نے دہلی کے عوام کا قتل عام کیا ۔ مگر یہ سوال مودی نے اس وقت اٹھایا جب یہ معاملہ ووٹرز کی اکثریت کو یاد نہیں تھامگر مودی کی یہ چال بھی ناکام ہو چکی جب گانگرس کے صدر راہول گاندھی نے اس مہم کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ اس میں جو بھی ملوث تھا اس کو کٹہرے میں لاؤ۔ دہلی میں یہ چال کامیاب نہیں ہوئی انتخاب کسی خون خرابے کے بغیر گزر گئے۔ دہلی کے عوام نے بڑی تعداد میں جوش و خروش سے ووٹ ڈالے۔ان میں مسلم آبادی والے حلقے میں مسلمانوں نے جو ستر فیصد ووٹ ڈا لے ہیں ان میں نوے فیصد کانگرس کو گئے۔ آج تک لوک سبھا کے انتخاب ہوئے ہیں ایسا گالی گلوچ والا ما حول پہلے نہیں دیکھا گیا۔کلکتہ ہی نہیں رائے بریلی میں بھی صوبے کی اسمبلی کی خاتون رکن کو مارا پیٹا گیا۔ پرینکا جو انتخابی مہم کے دوران شائستہ مہم چلانے میں مانی جاتی ہیں وہ بھی رائے بریلی پہنچی اور حکومت کو بتایا کہ رائے بریلی غنڈوں کی نہیں ہے۔ترنمول کانگرس نے امیت شاہ پر فرقہ وارانہ صف بندی کا الزام لگاتے ہوئے کہابی جے پی نے بنگلہ ثقا فت اور قدروں پرحملہ کیا ہے۔؟ مودی کی مقبولیت میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ اس بار مودی لہر پر الیکشن لڑا۔اس انتخابی مہم میں بی جے پی کے عام لوگ کارکن شامل نہیں ہوئے۔منوہر جوشی اور ایل کے ایڈوانی جیسے لیڈر وں کی جو توہین کی گئی اس کا نیگٹیو تاثر اب تک ختم نہیں ہوا۔نوجوان مایوس، کسان مایوس ،سیکولر طبقہ ساتھ نہیں ۔علاقائی اتحادی چھوڑ گئے۔یہ ہیں ناکامی کی وجوہات۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں