سورۃ جن پڑھ کر میں آسمان کی ایسی جگہ پر چلا جاتا ہوں جہاں پر ۔۔۔۔ مہاتما بدھ کی زندگی سے ناقابل یقین اسلامی قصہ

انسان اپنے ماضی حال اور مستقبل سے اسی طرح جڑا ہوا ہے جیسے اس کا بچپن ‘شباب اور بڑھاپا اس سے جڑا ہوا ہے‘ اگر ان سے بے پروا ہو کر کوئی انسان اپنے لیے ترقی اور بہتری کی راہ متعین نہیں کر سکتا تو اپنی تاریخ کو جانے بغیر

اور اس سے عبرت اور سبق حاصل کیے بغیر کوئی بھی اپنی ترقی کی راہیں نہیں پاسکتا بعض مسلمان اہل علم کا یہ رحجان ہے کہ مہاتما بدھ پیغمبر تھے ان کی غلط فہمی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ کئی بدھ نجومیوں نے برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام کی پیشین گوئی کی تھی لیکن یہ پیشین گوئی ہندو نجومیوں نے بھی کر رکھی تھی۔ نجومی او ر کاہن اپنے خاص فن کی وجہ سے مستقبل میں پیش آنے والے کچھ واقعات کی سن گن لے لیا کرتے تھے کیونکہ ان کاہنوں کو جنات سے رابطے کا فن آتا تھا اور جنات کے متعلق قرآن مجید نے سورہ جن کی آیات آٹھ اور نو میں بتایا ہے کہ وہ آسمان پر ایسی جگہوں پر چلے جاتے تھے جہاں وہ فرشتوں سے کچھ سن گن لے لیں لیکن قرآن مجید کے نزول کے دوران اللہ تعالیٰ آسمانوں پر پہرے لگا دیئے تھے۔ یہی حقیقت ان اقوال کی ہو سکتی ہے جن میں ’’آخری بدھا‘‘ یعنی خاتم النبین کی آمد کی بات کی گئی ہے جو مہاتما بد ھ سے منسوب کی جاتی ہے۔دوسری غلط فہمی یہ پیدا کی جاتی ہے کہ قرآن مجید میں ذوالکفل نامی ایک نبی کا نام آیا ہے۔ اب اس ذوالکفل کو ’’ کپل دستو‘‘ قرار دے کر کہا جاتا ہے کہ قرآن مجید نے ان کی جائے پیدائش کا نام لے کر انہی کاذکر کیا ہے۔ اول تو کپل دستو کو ذوالکفل قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں دی جاتی دوسرا یہ کہ کسی

آسمانی صحیفے یا تاریخی مآخذ سے کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ ذوالکفل کا تعلق برصغیر پاک و ہند کے علاقے سے ہو سکتا ہے ۔ اس کے برعکس قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی موجودگی میں پیغمبری کا منصب کسی دوسری قوم کو نہیں مل سکتا تھا جیسا کہ سورہ البقرہ کی آیات 47اور 122اور سورہ اعراف کی آیت 144سے بالکل واضح ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مہاتما بدھ کا دور وہی ہے جب بنی اسرائیل فضلیت کے اس مقام پر ابھی فائز تھے اور اللہ نے ان پر اپنی لعنت نہیں کی تھی اور یہ بات بھی طے ہے مہاتما بدھ بنی اسرائیل کی قوم کے فرد نہیں تھے چنانچہ قرآن مجید کی روشنی میں یہ بات حتمی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ مہاتما بدھ کم از کم کوئی نبی نہیں تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بدھ کی تعلیمات میں توحید رسالت اور آخرت کے حوالے سے کوئی ادنیٰ سا اشارہ بھی نہیں ملتا۔ اس کے برعکس ان کی ریاضت ‘تپسیا اور اہنسا کی روایات اس قدر تواتر سے ملتی ہیں کہ انکے ہوتے ہوئے بھی ان کو نبی نہیں مانا جاتا۔ دستیاب روایات سے ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ مہاتما بدھ نے ہندو مت کو یکسر رد کر کے اپنے مذہب کی بنیاد رکھی تھی۔ بلکہ اس کے برعکس بدھ کے ابتدائی ساتھی ہندووانہ عقائد کو ساتھ لے کر اس کے سنگھ میں شامل ہوئے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کے بدھ ہمیں وشنو

او رشیو کی عبادت کرتے نظر آتے ہیں۔ البتہ ان دونوں کو انہوں نے بدھ کے ذیلی معبود قرار دیا ہے۔یہ بات البتہ درست ہے کہ مہاتما بدھ نے ویدوں کاانکار کیا تھا اور قربانی کی عبادت کو بھی ترک کرنیکا حکم دیا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ویدوں کے معبودوں کو ترک کرنے سے بھی کسی حکم کا سراغ نہیں ملتا۔ یہ الجھن صرف اس وقت سلجھتی ہے جب یہ مانا جائے کہ مہاتما بدھ دراصل ہندومت کے عظیم مصلح تھے۔ انہوں نے ویدوں کی غیر انسانی تعلیمات سے اختلاف کیا تھا جن میں ذات پات اور قربانی سر فہرست تھیں چنانچہ اکثر مؤرخین کی یہی رائے ہے کہ مہاتما بدھ کے پیش نظر کسی نئے مذہب کی بنیاد ڈالنا مقصود نہ تھا بلکہ پرانے عقائد کی اصلاح کر کے ایک بہتر روحانی زندگی بسر کرنے کے اصول بتا نا تھا ۔ تاریخی طور پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عوامی سطح پر اسے ہمیشہ ہندومت کا ایک فرقہ ہی مانا گیا ہے۔ گو تم بدھ نے نئی تعلیمات کی بنیاد رکھنے کے بجائے پہلے سے رائج ’’اواگون‘‘ کے فلسفے کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اسے’’کرما‘‘ کی شکل دی۔ اواگون کے نظریے کے مطابق انسان ایک دفعہ پیدا ہونے کے بعد جب مرجاتا ہے تو پھر دوسرا جنم لیتا ہے۔ پہلی زندگی میں اگر اس نے اچھے کام کیے ہوں گے تو اگلے جنم میں اس کی زندگی خوشگوار ہو گی ورنہ اس حساب سے وہ بری زندگی جیئے گا۔ یعنی اس نے جتنے گناہ کیے ہوں

گے اتنی ہی تکلیف دہ زندگی میں ہو گا حتیٰ کہ اگر وہ بہت ظالم اور برا انسان رہا ہو گا تو ہو سکتا ہے کہ اگلے جنم میں وہ کتے جیسا حقیر جانور بن جائے اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ بدھا نے اس میں یہ تبدیلی کی کہ انسان کا پیدا ہونا ایک بہت بڑی برائی ہے۔ یعنی زندگی بذات خود ایک عذاب اور مصیبت ہے لہٰذا انسان کو دوسرے جنم میں بہتر زندگی کی آرزو کرنے کی بجائے اس چکر سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ جسے وہ نروان (نجات ) اور مکتی کہتا ہے ۔ یعنی اسے ایسی زندگی بسر کرنی چاہیے کہ وہ دوبارہ زندہ ہی نہ ہو۔ اسے دوسرا جنم نہ آئے اور وہ وہیں چلا جائے جہاں سے آیا ہے ۔یہ منزل حاصل کرنے کے لیے اسے اپنے قول ‘فعل او رسوچ کا تزکیہ کرنا ہو گا یعنی اسے پاک کرنا ہوگا۔ ایسا کرنے کے لئے اسے دس باتوں کا عہد کرنا ہو گا۔ جن کی تفصیل یہ ہے:(i)جاندار کو زخمی کرنے یا مارنے سے پرہیز‘(ii)چوری سے اجتناب‘(iii)جنسی عمل سے پرہیز‘(iv)جھوٹ اور دھوکا نہ دینا‘(v)نشہ آور چیزوں سے پرہیز‘(vi)دوپہر کے بعد کھانا نہ کھانا‘(vii)رقص و سرور یا کسی بھی قسم کی تفریحی سرگرمیوں سے اجتناب۔ (viii)زیب و آرائش کی چیزوں کو نہ پہننا ۔ (ix)آرام دہ بستر پر سونا۔ (x) کسی رقم یا قیمتی شے کا مالک نہ ہونا۔ ان میں پہلی پانچ باتیں عام آدمی کے لیے ہیں

باقی پانچ خواص کے لیے (بعد میں شادی نہ کرنے کی شق کو نکال دیا گیا تھا)ان تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے اشٹ مارگ (آٹھ راستے ) تجویز کیے گئے اور انہیں ’’درمیانی راہ ‘‘ قرار دیا گیا۔ اشٹ مارگ یہ ہیں: صحیح عقائد ‘صحیح سوچ‘صحیح گفتگو‘صحیح عمل‘صحیح طرز زندگی‘ صحیح کوشش ‘صحیح توجہ اور صحیح استغراق ۔ ریاست مگدھ میں بدھ مت کے عروج کے دوران ایک اور مذہب جین مت پیدا ہوا۔ اس کے بانی مہاویر تھے ۔ وہ بھارت کے صوبہ بہا رکے شہر پٹنہ کے قریب ایک گاؤں و یشالی میں پیدا ہوئے۔ یہ 540ق م کا زمانہ تھا۔ مہاویر کشتری ذات سے تعلق رکھتے تھے اور وہ ہندو دھرم کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جسے ’’پارشو ناتھ‘‘ کہتے ہیں ۔ پارشوناتھ ہندو ریاضت کرنے پر بہت زور دیتے ہیں اور ترک دنیا کو بہترین کام خیال کرتے ہیں ۔ اس خاندانی پس منظر کے ساتھ مہادیو ایک عیش و آرام کی زندگی گزار رہے تھے کہ تیس برس کی عمر میں انہوں نے ترک دنیا کا اچانک فیصلہ کیا ۔ اس فیصلے کی اس کے سوا کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ ان کے آباؤ اجداد میں سے بھی بعض نے ایسا ہی کیا تھا۔ مہاویر نے اپنے سر کے بال نوچ ڈالے‘لباس اتار پھینکا اور ایک دھوتی پہن کر جنگل کی راہ لی۔ بارہ برس تک وہ تپسیا (ریاضت) کرتے رہے اور مسلسل سفر میں رہے۔ ان کے جسم پر دھوتی ایک آدھ برس ہی رہی ‘ اس کے بعد وہ ننگ

دھڑنگ ہی رہنے لگے ۔ ریاضت کے دوران وہ کسی قسم کی گندگی کو اپنے جسم سے جدا نہ کرتے چنانچہ ان کے سر میں جوئیں پڑگئیں لیکن وہ ان جوؤں کو جسم سے صاف نہ کرتے بلکہ ان سے ہونے والی تکلیف کو بھی برداشت کرتے تاکہ ان کے اندر زیادہ سے زیادہ قوت برداشت پیدا ہو۔ لوگ ان کے گندے جسم ‘ ننگ دھڑنگ بدن اور غلیظ حلیے کو دیکھ کر ان پر آوازیں کستے ‘گالیاں دیتے ‘ پتھر مارتے لیکن وہ اپنی ان دیکھی دنیا میں مست رہتے اور اس صورتحال کو بھی اپنی روحانی ترقی کے لیے استعمال کرتے ۔ جین مت کے علما مہاویر کی زندگی کے اس دورکو ’’ہنسا‘‘ یعنی عدم تشدد کے فروغ کا باعث قرار دیتے ہیں۔ریاضت کے تیرہویں برس انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے ’’کیول گیان ‘‘ حاصل ہو گیا ہے۔ کیول گیان کا قریباً وہی مفہوم ہے جو مسلمانوں میں رائج تصوف میں عرفان احدیت کا ہے۔ یعنی مہاویر نے اس با ت کو سب سے بڑی حقیقت قرار دیا کہ خدا کوئی دیوتا نہیں جو محض بہت سارے خداؤں کا سردار ہو بلکہ اس کی علیحدہ سے ایک متعین ذات ہے جو سب سے بڑی اور اعلیٰ ہے۔ اس شعور اور آگہی کی بنا پر مہاویر کو ’’جینا ‘‘ کہا گیا جس کا مطلب ہے ’’فاتح‘‘ ۔ یعنی زندگی کے دکھوں کا فاتح یا دنیاوی خواہشات و لالچ کا فاتح۔ اس لفظ جینا سے’’ جین‘‘ بنا اور مت کا مطلب طریقہ مذہب یا راستے کے ہیں۔ روایت کے مطابق جب

مہاویر کو کیول گیان حاصل ہوا تو وہ ایک کھیت میں ایک برس سے درخت کے نیچے سر کے بل کھڑا ہو کر ریاضت کر رہاتھا ۔ اسے ’’ چلہ معکوس‘‘ کہتے ہیں۔ مہاویر تیس برس تک لوگوں کو اپنے دھرم کی تعلیم دیتا رہا۔ 72ء برس کی عمر میں (467ق م) اس نے بھارتی صوبے بہار کے شہر پاوا پوری میں انتقال کیا۔ انتقال کے وقت راجہ ہستی پال کے محل میں مقیم تھا اور اس نے ’’’مرن بھرت‘‘ رکھا ہوا تھا۔ گوشت خوری تو دورکی بات ہے ‘سبزی خوری بھی بس زندگی برقرار رکھنے کے لیے جائز ہے۔ جین مت کا ایک فرقہ ننگ دھڑنگ رہنے کی تعلیم دیتا ہے جبکہ دوسرے کے نزدیک صرف سفید دھوتی پہننا ٹھیک ہے۔ تیسرا فرقہ قدرے ترقی پسند تھا جن کے نزدیک جائیداد رکھنا جائز تھا۔ ظاہر ہے کہ اتنا انتہاء پسند مذہب عوام میں مقبول نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ناقابل عمل تعلیمات کے ساتھ ساتھ مہاویر کے مذہب میں عوام کی بہبود کے لیے حصہ نہیں تھا۔ اس کے برعکس بدھ مت میں ذات پات پر تنقیدکیے بغیر ہر ذات کو اپنا کر مساوات کا درس دیتا تھا جو نچلی ذاتوں اوراصول پسند انسانوں کیلئے بڑی کشش کا باعث تھا۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ جین مت ایسے طبقوں میں مشہور ہوا جو برہمن اور کشتری کی بالادستی کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔اسی لیے مہاویر کے جین مت کو صرف چند بڑے بڑے امراء ‘راجوں اور مہاراجوں نے قبول کیا۔ مہاویر کے انتقال کے وقت اس کے معتقدین کی تعداد

پورے برصغیر میں چودہ ہزار سے زائد تھی ۔ ریاستی سطح پر مگدھ سلطنت کے شہزادے اجات شترو نے جین مت قبول کیا اور پھر اپنے باپ بمبی سار کو قتل کر دیا جو کہ ایک سچا بدھ تھا راجا اجات شترو نے جین مت کو پھیلانے کے لے خاصی جدوجہد کی۔ مہاراجہ اشوک کے بعد راجہ کھرویل ‘راجہ اشوک کے پوتے سم پرتی ‘ راجہ اندر چہارم اور راجہ گادرش نے بھی جین مت اختیار کیا اور س کے فروغ کے لیے بہت کام کیا۔ ان میں مؤخر الذکر دوراجوں نے جین روایات کے مطابق ریاضت میں اپنی جان قربان کر دی ۔ عملی طور پر جین مت میں سب سے زیادہ زور ’’اہنسا‘‘پردیاجا تا ہے جس کے تحت کسی قسم کی جان کو تکلیف یا ختم کرناگناہ ہے۔ جین مت میں ’’مرن بھرت‘‘ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔اپنے آپ کو بھوک پیاس سے مار دینا بڑی نیکی اور اعلیٰ مقام سمجھا جاتا ہے ۔ یاد رہے مہاتما گاندھی نے اسی فلسفے کو عالمگیر سطح پر متعارف کروایا۔ جین مت عملی تعلیمات چونکہ عام انسانوں کے لیے ناقابل عمل ہیں لہٰذا ہمیں اس میں بہت تضاد ملتا ہے ۔ مثلاً جین مت کو قبول کرنے والے پہلے بادشاہ اجات شترو نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور اس وقت مہاویر خودزندہ تھے اور اجات شترو ہی نے جین مت کو سب سے زیادہ فروغ دیا۔ اسی طرح بعد کے ادوار میں گجرات کا راجہ کمار اپالا نے اپنی ریاست میں ’’اہنسا‘‘ کو نافذ کر دیا اور اس کے خلاف ورزی کرنے والے کو موت کی سزا دی ۔ جب یہ کہا گیا کہ موت کی سزا تو خود اہنسا کے عقیدے کے خلاف ہے تو اس کی وضاحت اس طرح کی گئی ۔جین مت کے اصول ہر ایک کے لیے ہیں ‘ وہ ہر ایک کو کہتا ہے کہ زندگی میں اپنا فرض تن دہی سے ادا کرے لیکن جب کوئی ایسا نہیں کرتا اور دوسرے کا حق غصب کر کے کسی کو مار دیتا ہے تو دراصل وہ اپنے حق میں اہنسا کو ختم کر دیتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہوتا ہے جو جین مت کے عین مطابق ہے! بدھ مت اور جین مت کی تعلیمات شروع میں ہندو مت کے ایک فرقے کے طور پر ریاست مگدھ اور اردگرد کی ریاستوں میں متعارف ہوتی رہیں۔ جین مت جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے زیادہ ترقی نہ کر سکا البتہ بدھ مت کو اشوک کے زمانے میں بہت فروغ حاصل ہو ا‘لیکن اسلام کی کرنوں نے سارا منظر اجال دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں