سعودی بحری جہازوں پر حملہ ۔۔۔ ایران نے اچانک دبنگ اعلان کر دیا ، پوری دنیا کو بڑا سرپرائز دے دیا

تہران (ویب ڈیسک) سعودی عرب اور ایران کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، مگر ابایرانی وزارت خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی ریاست الفجیرہ کے ساحل کے قریب کمرشل بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کو پریشان کن اور افسوسناک قرار دیتے اس کے مضمرات

سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ایک بیان میں کہاکہ ایسے حادثات کے بحری ملاحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انھوں نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی عناصر کی طرف سے استحکام کو گزند پہنچانے والی سازشوں سے ہوشیار رہیں، یاد رہے کہ یہ خبر آئی تھی کہ خلیجی ممالک سے دنیا بھر کو تیل کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والی واحد گذر گاہ آبنائے ہرمز کے نزدیک سعودی عرب کے 2 تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا،سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز کے نزدیک متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ الفجیرہ میں 2 سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہازوں کو نقصان پہنچا تاہم تمام عملہ محفوظ ہے، دونوں جہاز تیل کی ترسیل پر مامور تھے اور ان میں سے ایک بحری جہاز امریکا کو تیل کی فراہمی کے لیے اپنے روٹ پر تھا۔متحدہ عرب امارات اور ایران کی جانب سے سعودی بحری جہازوں پر حملے کے واقعے کی تفصیلات جاری کی تھیں تاہم اب تک حملہ آوروں اور حملے کی نوعیت سے میڈیا کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے، سعودی وزیر تیل خالد الفالح نے سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کو تیل کی بین الاقوامی ترسیل کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش قرار دیا، تحدہ عرب امارات نے الفجیرہ بندرگاہ پر سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہازوں پر حملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم ابتدائی طور پر حملہ آوروں سے متعلق کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں