ایک اور جھوٹی خبر بے نقاب : امریکہ کے پاکستان پر پابندیوں کے حوالے سے چلائی جانے والی خبر کی اصلیت کیا نکلی؟ اب کی بار امریکہ خود میدان میں کود پڑا، تفصیلات جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

واشنگٹن(ویب ڈیسک )امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ ویزا پالیسی پاکستان اور امریکا کا باہمی معاملہ ہے، اس پر دونوں ملکوں میں بات چیت جاری ہے۔اسلام آباد میں ترجمان امریکی سفارتخانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قونصلر آپریشن جاری ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اس سے پہلے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے حوالے سے خبر آئی تھی کہ پاکستان اور گھانا کو پابندیوں کا سامنا کرنےوالے ملکوں کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے کل ایک خبر چلائی گئی تھی جس کے مطابق امریکا نے پاکستانیوں کے ویزے روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بےدخل افراد کو لینے سے انکار کیا تو ویزا نہیں ملے گا ، 10 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل کر دیا گیا. امریکا نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے نئے قواعد و ضوابط کے تحت پاکستانی شہریوں کے امیگرینٹ اور نان امیگرینٹ ویزے روک سکتا ہے.ویزوں سے متعلق پابندیوں کا ذکر فیڈرل رجسٹر نوٹیفکیشن میں کیا گیا جو اس ہفتے کی شروع میں اپ ڈیٹ کیا گیا تھا اور اس کے مطابق پاکستان 10 ممالک کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہے جنھیں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک ضابطے کے تحت پابندیوں کا سامنا ہے.پاکستان کے علاوہ اس لسٹ کے دیگر 9 ملکوں میں گیانا، گیمبیا، کمبوڈیا، اریٹیریا، گنی، سیرا لیون، برما، لاوس اور گھانا شامل ہیں.اس ضابطے کے مطابق ان ممالک کو امریکی ویزے دینے سے انکار کردیا جائے گا جو امریکا سے بے دخل کیے جانے والے اور ویزے کی مدت سے زائد وقت تک قیام کرنے والوں کو واپس لینے سے انکار کریں. 1996 میں نان امیگرینٹ ویزا سے متعلق قانون میں ترمیم کے بعد سے ویزے کی 318 درخواستیں متاثر ہوئی ہیں اور 10 ممالک پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں. یہ معاملہ پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک زیر بحث رہا واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام کا موقف ہے کہ بیشتر معاملات میں بےدخل کیے جانے والوں کی قومیت ثابت نہیں ہوئی اور بعض کیسز میں ایسے افراد کی دستاویزات ضائع کردی گئیں یا ان میں جعلسازی کی گئی جس کی وجہ سے ان کی تصدیق نہیں ہوسکی. 1996 میں نان امیگرینٹ ویزا سے متعلق قانون میں ترمیم کے بعد سے ویزے کی 318 درخواستیں متاثر ہوئی ہیں اور 10 ممالک پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں. یہ معاملہ پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک زیر بحث رہا واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام کا موقف ہے کہ بیشتر معاملات میں بےدخل کیے جانے والوں کی قومیت ثابت نہیں ہوئی اور بعض کیسز میں ایسے افراد کی دستاویزات ضائع کردی گئیں یا ان میں جعلسازی کی گئی جس کی وجہ سے ان کی تصدیق نہیں ہوسکی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں