اونٹنی کے دودھ کا ایسا انوکھا استعمال۔۔۔ کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا

اونٹنی کا دودھ صدیوں سے عربوں کی مقبول ترین غذا رہا ہے لیکن اب دبئی کی ایک کمپنی نے اسے ایک مہنگے شیمپو کی شکل دے کر بین الاقوامی پیمانے پر متعارف کروادیا ہے۔ ایمریٹس انڈسٹری فار کیمل ملک اینڈ پراڈکٹس کی ذیلی کمپنی کیملیشیئس بیوٹی نے دبئی میں منعقد ہونے

والے ”بیوٹی ورلڈ 2015ئ“ ٹریڈ شو میں نئی قسم کا شیمپو متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے جس کی چار مختلف قسمیں اونٹنی کے دودھ سے تیار کی جائیں گی۔ کمپنی شیمپو کے علاوہ دیگر متعدد بیوٹی پراڈکٹس بھی اونٹنی کے دودھ سے بنا رہی ہے جن میں بیوٹی کریم اور لوشن وغیرہ شامل ہیں۔ اونٹنی کے دودھ سے بنے شیمپو کو چار مختلف اقسام میں متعارف کروایا جائے گا جن کی قیمتیں 8 ڈالر سے لے کر 40 ڈالر (تقریباً 4 ہزار پاکستانی روپے) تک ہوں گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ شیمپو خوبصورتی کی فکر کرنے والے کسٹمرز کے لئے متعارف کروایا جارہا ہے جو اپنے حسن کی حفاظت کے لئے قدرے زیادہ رقم خرچ کرنے پر تیار ہیں۔ شیمپو امریکا، یورپ اور ملائیشیاءمیں بھی متعارف کروایا جائے گا۔ دبئی العین روڈ پر واقع کمپنی کے فارمز میں روزانہ 6ہزار لٹر اونٹنی کا دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔ کمپنی اونٹنی کا تازہ دودھ برطانیہ بھی سپلائی کرتی ہے جبکہ خصوصی چاکلیٹ بنانے کے لئے اونٹنی کے دودھ کا پاﺅڈر بھی سپلائی کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب دودھ اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جسے دنیا کی ساری نعمتوں پر فوقیت دی جاسکتی ہے۔ دودھ کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا اور دیگر آسمانی صحیفوں میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ نبیٔ مہربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لیے دوا نازل فرمائی ہے، پس گائے کا دودھ پیا کرو،کیونکہ یہ ہر قسم کے درختوں کو چَرتی ہے۔ گائے کے دودھ سے علاج کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں شفا رکھی ہے‘‘۔ ہمارے استاد شہید حکیم محمد سعید، نبیٔ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنایا کرتے تھے کہ گائے کے گوشت میں بیماری اور دودھ میں شفا ہے۔ کسی بھی جانور کے دودھ کا دارو مدار اُس کی عمر، صحت اور خوراک پر ہے کہ اس کی کیسی خوراک پر پرورش ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں