شادی شدہ لڑکی کے 20سالہ لڑکے کیساتھ ناجائز مراسم،ایک دوسرے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کا ایسا نتیجہ نکل آیا کہ انسان کی عقل دنگ رہ جائے

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور میں 20 سالہ لڑکے کے شادی شدہ خاتون سے ساتھ ناجائز مراسم کی ایک ایسی داستان کہ سُن کر پر کوئی حیران رہ جائے۔ 20 سالہ سجاول کے نازیہ نامی شادی شدہ خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ سجاول کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا 20 سال کا تھا اور سیلنگ کا کام

کرتا تھا۔ تقریباً دو سال تک سجاول نے اسلام آباد میں سیلنگ کا کام کیا۔سجاول کو کام پر لگے چار پانچ ماہ ہوئے تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پیسے کیوں نہیں بھیج رہے جس پر اس نے جواب دیا کہ ابھی میں سیکھ رہا ہوں۔ لیکن میں نے بارہ تیرہ ہزار کا کام کیا ہوا ہے تو میں کچھ روز تک آپ کو پیسے بھیج دوں گا۔ مجھے اُس کی ٹال مٹول سنتے ایک سال سال کا عرصہ گزر گیا۔میں نے اس کے مالک کو فون کیا اور کہا کہ تم اسے لے کر گئے ہو لیکن وہ کوئی کام نہیں کر رہا اور نہ ہی مجھے کوئی پیسے بھیج رہا ہے۔اُس کو واپس بھیج دو۔ جس پر اس کے مالک نے مجھے بتایا کہ بھابھی وہ تو کام کر رہا ہے۔ کبھی 22 ہزار ، کبھی 23 ہزار اور کبھی تو 25 ہزار کا کام بھی کر رہا ہے۔سجاول کے مالک میں مجھے تسلی دی کہ میں جاؤں گا تو پتہ کروں گا کہ وہ ان پیسوں کا کیا کر رہا ہے؟ سجاول کے والد نے بتایا کہ میں سجاول کی والدہ کو کہتا تھا کہ وہ پیسے اگر نہیں بھیج رہا اور اپنے پاس رکھ رہا ہے تو کوئی بات نہیں۔

میں نے وہاں کام کرنے والے لوگوں سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ اکثر فون پر جانو ، جان کہہ کر بات کرتا ہے، شاید کوئی لڑکی ہے جس سے یہ باتیں کرتا ہے۔ سجاول کی بہن نے بایا کہ پچھلی مرتبہ جب وہ گھر آیا تو اس کا برتاؤ ٹھیکنہیں تھا۔ میں نے آخری مرتبہ اپنے بھائی کو نازیہ کے گھر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ مقتول کی والدہ نے بتایا کہ سجاول اپنی ساری کمائی نازیہ پر لُٹا دیتا تھا ۔ ایک دن یہ نازیہ کو میرے گھر لے کر آیا جس کی گود میں کچھ ماہ کی بچی تھی۔ میں نے پوچھا کہ کون ہے جس پر سجاول نے کہا کہ یہ میرے دوست کی بیوی ہے، وہ سارا دن ہمارے ساتھ رہی اور کھانا وغیرہ کھایا۔ سجاول کے والد نے بتایا کہ ہم نے اسے باز رکھنے کی کوشش کی اور ایک پریس میں بھی لگوا دیا۔ لیکن سب کچھ بے سود رہا۔ ایک شام وہ نان لینے گیا تو واپس نہیں آیا جس کے بعد سجاول کی لاش اگلے دن پولیس کو ملی۔سجاول کی لاش گھر پہنچی تو گھر میں کہرام برپا ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق نازیہ شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں ہے لیکن اس کے اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں تھے۔ شوہر کی لاپرواہی کی وجہ سے سجاول نے اس بات کا بھرپور فائدہ اُٹھایا جبکہ نازیہ نے بھی اس بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سجاول کی پوری کمائی ہڑپ لی۔ سجاول اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جو گھر سے نان لینے گیا لیکن واپس نہیں آیا ۔ سجاول کے قتل کے بعد علاقہ میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس کو نازیہ پر ہی شک ہے لیکن اصل ملزمان ابھی بھی نامعلوم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں