جہانگیر ترین اور نواز شریف کی فیس ٹو فیس ملاقات ہوئی یا نہیں ؟ پی ٹی آئی کے ناراض رہنما نے کیا فیصلہ کر لیا ؟ سارے معاملے کا ڈراپ سین کردینے والی خبر

لندن (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین حکومت کی جانب سے شوگر کمیشن رپورٹ جاری ہونے کے فوری بعد پاکستان سے اپنے چارٹر طیارے میں برطانیہ آئے تھے اور وہ پانچ ہفتے سے اپنے ہمپشائر کنٹری ہوم میں مقیم ہیں۔ لندن میں ان کی سرگرمیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی

جا رہی تھیں لیکن انتہائی قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما نے کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں کیں، جیسا کہ میڈیا کے کچھ حصے میں رپورٹ کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی برطانیہ اور دیگر جماعتوں کے متعدد افراد نے ملاقات کیلئے ترین کو پیغامات بھیجے لیکن انہوں نے ملاقاتوں یا وسیع رابطوں سے گریز کیا اور پس منظر میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی میڈیکل ہسٹری سے واقفیت رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ وہ کئی برسوں سے اپنے علاج کیلئے اکثر لندن آتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی صحت پر توجہ دینے کیلئے لاک ڈائون دورانیے کا فائدہ اٹھایا۔ ایک سوال کے جواب میں شریف فیملی کے ذرائع نے نمائندے کو بتایا کہ ترین نے کسی ملاقات یا اس طرح کی کسی بھی چیز کیلئے براہ راست رابطہ نہیں کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے کوئی شرائط نہیں بھیجی تھیں کیونکہ پہلے مرحلے میں کوئی باقاعدہ رابطہ ہی نہیں ہوا۔ برطانیہ میں پی ٹی آئی کے دو رہنماؤں سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے جہانگیر ترین سے ایک سماجی ملاقات کیلئے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے ملاقات سے انکار کردیا کہ وہ آرام کر رہے ہیں اور اس مرحلے پر کسی سے نہیں مل رہے۔ تاہم معتبر طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ ترین نے بزنس کمیونٹی کے کم از کم دو قابل اعتماد دوستوں سے ملاقات کی، جو پاکستانی سیاست میں شامل نہیں ہیں۔ یہ دونوں پاکستان کے مشہور تاجر ہیں اور گزشتہ دو ماہ سے لندن میں ہیں۔ پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ نے ہمپشائر میں دو بار ترین کے گھر کا دورہ کیا لیکن دونوں مرتبہ انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ بیٹا علی ترین بھی ان کے ساتھ ہے جسے بلیک رینج روور چلاتے دیکھا گیا۔ معتبر ذرائع نے بتایا کہ جہانگیر ترین نے اپنی زندگی پی ٹی آئی کو دی اور وہ اپنی پارٹی کے وفادار ہیں۔ پی ٹی آئی کے سینئر ذرائع نے اس کی تصدیق کی کہ عمران خان اور ترین کے مابین تعلقات خوشگوار نہیں ہیں لیکن ترین نے کھلے عام یہ بات کہی کہ کچھ بیوروکریٹس اور مشیر ان کےخلاف غلط خیالات کو ہوا دے رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عید الاضحیٰ لندن میں ہی گزاریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں