25 اپریل گُزر گئی تو کیا ہوا۔۔؟؟ چینی اسکینڈل فرانزک رپورٹ کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کر لیا، بڑے بڑوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) ڈی جی ایف آئی اے نے چینی سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ کے فرانزک آڈٹ کے لئے دو ہفتےکی مزید مالیت مانگی تھی ، جس پر ان کو مزید دو ہفتے کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد انکوائری کمیشن کی فرانزک رپورٹ اب نو مئی کے

بجائے 25 مئی کو وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق چینی سکینڈل پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان لے اس کے فرانزک آڈٹ کرانے کے احکامات دیے تھے، جس کے بعد ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی زیر نگرانی انکوائری کمیشن بنایا گیا تھا، جس نے وزیراعظم عمران خان کو نو مئی کو تحقیقاتی رپورٹ فرانزک آڈٹ کے بعد پیش کرنی تھی۔حکومتی ذرائع کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے نے چینی سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ کے فرانزک آڈٹ کے لئے دو ہفتےکی مزید مالیت مانگی تھی ، جس پر ان کو مزید دو ہفتے کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد انکوائری کمیشن کی فرانزک رپورٹ اب نو مئی کے بجائے 25 مئی کو وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔حکومتی ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ گھوٹکی میں واقع شوگر مل کی تحقیق میں مصروف ٹیم میں دو نئے افسران کا اضافہ کیا گیا ہے، جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان اور ارسلان وٹو شامل ہیں۔ تاہم نئے دو ممبران کی شمولیت کے بعد اب یہ تحقیقاتی ٹیم اگلے ہفتے دوبارہ گھوٹکی میں واقع الائنس شوگر مل کا دورہ کرے گی۔خیال رہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم میں انکشاف کیا گیا تھا کہ چینی بحران سے سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے سینئر ترین رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا ہے، اس کے علاوہ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور حکمران اتحاد میں شامل مونس الہی شامل تھے، جنہوں نے ملک میں چینی بحران سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں