25 جولائی تک پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران میں داخل ہو جائے گا ۔۔۔۔ نامور شخصیت نے وارننگ جاری کر دی

کراچی (ویب ڈیسک ) سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی سے انتخابات غیرمتنازع نہیں ہوتے ہیں، راجہ قمرا لاسلام کی گرفتاری بنتی تھی تو اسے گرفتار کیا جانا چاہئے تھا،چوہدری نثار نے خود کہہ دیا ہے کہ ان کے مخالف امیدوار کی گرفتاری سے انتخاب متنازع ہوگا، نیب کو سلام ہے

کہ 156کمپنیوں کے کیس کے مرکزی ملزم شہباز شریف کو الیکشن تک آزاد چھوڑ دیا مگر راجہ قمر الاسلام کو پکڑلیا، چیئرمین نیب آئین کی وہ شق دکھائیں جو ملزم کو الیکشن تک نہ پوچھنے کی اجازت دیتی ہے، قوم کو معاف کرائے گئے قرضوں کی وصولی کیلئے چیف جسٹس کا ساتھ دینا چاہئے، سرکاری بینکوں سے سیاستدانوں نے جو پیسے لے کر کھالئے چیف جسٹس سے اپیل ہے وہ پیسہ ضرور وصول کریں،بابا ئے جمہوریت شاہد خاقان عباسی کو پتا ہونا چاہئے کہ جمہوریت میں وفاداری نہیں ایمانداری اہم ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ارشاد بھٹی، حفیظ اللہ نیازی، حسن نثار، امتیاز عالم، بابر ستار اور شہزاد چوہدری نے جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان عائشہ بخش سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میزبان کے پہلے سوال صاف پانی کیس، کیا راجہ قمر الاسلام کی گرفتاری سے حلقے کا انتخاب متنازع ہوگا؟ کا جواب دیتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ قانون کی حکمرانی سے انتخابات غیرمتنازع نہیں ہوتے ہیں، اگرراجہ قمرا لاسلام کی گرفتاری بنتی تھی تو ہر صورت میں اسے گرفتار کیا جانا چاہئے تھا۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ صاف پانی کمپنی میں کسی سیاستدان کو عہدہ دینے کا مطلب ہے یہ پیسہ بنانے کے چکر میں تھے، ایک سیاستدان کیوں اس قسم کے گندے کام میں جارہا ہے، نیب شہباز

شریف کو سیاسی شہید نہ بننے دینے کے نام پر گرفتار نہیں کررہی لیکن راجہ قمر الاسلام کو گرفتار کرلیا، راجہ قمر الاسلام کی گرفتاری سے حلقہ کا انتخاب متنازع بنانے کی کوشش کی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ راجہ قمر الاسلام نے 2013ء کے الیکشن میں ریکارڈ ووٹ لیے تھے، اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے سزا دینی چاہئے لیکن اس کیلئے طریقہ کار موجود ہے، راجہ قمر الاسلام کے کیس میں طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا، پاکستان پچیس جولائی تک تاریخ کے سب سے بڑا بحران میں داخل ہوجائے گا۔بابر ستار نے کہا کہ کسی پر الزام لگا کر تحقیقات کیلئے اسے گرفتار کرنا درست نہیں ہے، کسی شخص پر جب تک الزام ثابت نہیں ہوتا وہ بے گناہ سمجھا جائے گا، ہر الزام خصوصاً وائٹ کالر کرائم میں ملزم کو گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، راجہ قمر الاسلام الیکشن لڑ رہے ہیں وہ کہاں بھاگ کر جائیں گے، ان کی گرفتاری سے حلقے کا انتخاب متنازع ہوجائے گا۔ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ نیب کو سلام ہے کہ 156کمپنیوں کے کیس کے مرکزی ملزم شہباز شریف کو الیکشن تک آزاد چھوڑ دیا مگر راجہ قمر الاسلام کو پکڑلیا، چیئرمین نیب آئین کی وہ

شق دکھائیں جو ملزم کو الیکشن تک نہ پوچھنے کی اجازت دیتی ہے، راجہ قمر الاسلام کی اس موقع پر گرفتاری بالکل غلط ہے، نیب مرکزی کردار کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مار رہاہے، راجہ قمر السلام کو رہا کر کے الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے، نیب ایسی ہی بونگیاں مارتی رہی تو صرف اس حلقے کا نہیں پورا انتخاب متنازع ہوجائے گا۔ امتیاز عالم نے کہا کہ چوہدری نثار نے خود کہہ دیا ہے کہ ان کے مخالف امیدوار راجہ قمر الاسلام کی گرفتاری سے انتخاب متنازع ہوگا، کرپشن کا معاملہ متنازع ، یکطرفہ اور ٹارگٹڈ ہوگیا ہے ، ایک ہی پارٹی کے لوگوں کو پکڑا جارہا ہے باقی جگہ شورشرابا بند ہوگیا ہے، نیب کو سیاسی طور پر استعمال کر کے اس کے اچھے کاموں میں مینگنیاں نہ ڈالی جائیں۔دوسرے سوال قوم کے پیسے واپس نہ لاسکے تو کرسی پر بیٹھنے کا حق نہیں، چیف جسٹس کے قرضہ معافی کیس میں ریمارکس، کیا جسٹس ثاقب نثار قوم کے پیسے وصول کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ کا جواب دیتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ قرضہ معافی کیس بہت ٹیکنیکل کام ہے، معاف کیے گئے قرضوں کو وصول کرنا تیکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اس

پر ازخود نوٹس لیا تھا جس میں ہزاروں قرضے سیٹل ہوئے تھے۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ قرضہ معافی کیس میں کئی لوگ قرضہ واپس کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔بابر ستار کا کہنا تھا کہ عدالت کے ریمارکس پر کمنٹری کرنا مناسب نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں سیاق و سباق کا علم نہیں ہوتا ہے، پرائیویٹ بینکوں سے جو قرضے معاف ہوئے اس میں قوم کا پیسہ ضائع نہیں ہوتا ہے، کمرشل بنیادوں پر پوری دنیا میں قرضے معاف ہوتے ہیں۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ چیف جسٹس قرضہ معافی کیس میں نیک نیتی سے عمل کررہے ہیں، چیف جسٹس قوم کے پورے پیسے تو وصول نہیں کریں گے مگر جتنے بھی وصول کرسکیں اتنے ہی اچھے ہوں گے۔امتیازعالم کا کہنا تھا کہ قوم کو معاف کرائے گئے قرضوں کی وصولی کیلئے چیف جسٹس کا ساتھ دینا چاہئے، سرکاری بینکوں سے سیاستدانوں نے جو پیسے لے کر کھالئے چیف جسٹس سے اپیل ہے وہ پیسہ ضرور وصول کریں۔تیسرے سوال سابق وزیراعظم کے نزدیک ضمیر کا سودا نہ کرنا اور وفاداری تبدیل نہ کرنا جمہوریت کی خدمت ہے!کیا آپ اتفاق کرتے ہیں؟کا جواب دیتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ عام ایماندار آدمی بھی ضمیر کا سودا اور وفاداری تبدیل کرنے سے گریز کرتا ہے۔(ع،ع)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں