آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بل کی حمایت کرکے نواز شریف نے اپنے بیانیے کا کیا حشر نشر کرلیا ہے؟ نامور صحافی سلمان غنی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) آرمی چیف کی مدت ملازمت اور اس میں توسیع کا عمل سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق حل تو ہو جائے گا لیکن اس خالصتاً آئینی عمل میں سیاسی قوتوں خصوصاً مسلم لیگ ن میں پیداشدہ کنفیوژن کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ پارٹی قیادت کی جانب سے مذکورہ ترمیم کیلئے غیر مشروط حمایت کے اعلان نے ملک بھر میں سویلین بالادستی اور خصوصاً ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کو خاصا نقصان پہنچایا ہے ۔

تجزیہ کار سلمان غنی نے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اہم سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیاآرمی ایکٹ پر اتفاق دیگر اہم مسائل پر بھی حکومت اپوزیشن میں ا تفاق کی راہ ہموار کرسکتاہے ۔ پاکستان میں موجود پارٹی کے ذمہ دار حلقے اسے لیڈرشپ کی واضح ہدایت کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے ترمیم کیلئے سرگرم عمل ہیں جبکہ پارلیمانی اور سیاسی حلقوں میں موجود پارٹی کے بعض ذمہ داران اس صورتحال سے خاصے پریشان اور دل گرفتہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ ایک طویل جدوجہد کے نتیجہ میں عدلیہ میں سے تو نظریہ ضرورت کا خاتمہ ہوا لیکن سیاسی محاذ پر ان سیاسی قوتوں نے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت اور اس کی توسیع کے عمل کے حوالے سے غیر مشروط حمایت کے اعلان سے نظریہ ضرورت کو زندہ کر دیا۔ ان حلقوں کے مطابق ادارے کے مفاد میں اس کے سربراہ کے تعین اور اس کی مدت کے حوالے سے دو آرا نہیں لیکن توسیع کے عمل کو ادارے کے مفاد میں قرار نہیں دیا جا سکتا ۔آخر کیا وجہ ہے کہ ن لیگ نے اس بل کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا ۔ ن لیگ کے ذمہ دار ذرائع یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی غیر مشروط حمایت کا فیصلہ لندن میں پارٹی لیڈرشپ نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات میں ہی ہو گیا تھا جس میں آٹھ رکنی وفد نے انہیں پاکستان میں حالات اور خصوصاً فوج کے سربراہ کی مدت اور توسیع کے حوالے سے معاملات پر آگاہ کرتے ہوئے ان سے رہنمائی طلب کی تھی۔

بعدازاں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی جس میں اراکین اسمبلی کے ساتھ سینیٹرز اور پاکستان میں موجود ساری لیڈرشپ موجود تھی کو خواجہ آصف نے مذکورہ ترمیم کی غیر مشروط منظوری کے حوالے سے پارٹی قیادت کی ہدایات سے آگاہ کیا اور خاموش ہو گئے جس پر بعدازاں گوجرانوالہ ڈویژن سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار چیمہ نے اجازت طلب کی کہ کیا اس پر آرا کا اظہار ہو سکتا ہے یا اسے حتمی فیصلہ سمجھا جائے جس پر انہیں بات کرنے کی اجازت ملی تو انہوں نے کہا کہ فوجی سربراہ کی مدت ملازمت کے تعین تک تو ترمیم ضروری مگر توسیع کا عمل خود ادارے پر اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ اس سے بعض افراد کی پروموشن اثر پڑتا ہے اور اب ہم آج کے حالات میں جو کرنے جا رہے ہیں تو کیا یہ نظریہ ضرورت نہیں۔ اس طرح کا فیصلہ خود ہماری سیاست پر اثرانداز ہوگا۔ انہوں نے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محترم خواجہ صاحب ماضی کی اس طرح کے ایشوز پر اسی ایوان میں یہ کہہ کر معافی مانگتے رہے ہیں کہ اگر ہمارے بزرگوں نے ضیا الحق کا ساتھ دیا تو غلط کیا۔ ڈاکٹر نثار چیمہ کے ان خیالات پر پارٹی اراکین ڈیسک بجاتے نظر آئے ، ایک رکن اسمبلی شیخ فیاض نے تو جذباتی انداز میں کہا کہ میرا پیار بھرا بوسہ قبول کریں جس پر ڈاکٹر نثار چیمہ کا کہنا تھا

کہ کیا مورخ آنے والے وقت میں ہمارے بارے میں یہ نہیں کہے گا کہ‘‘ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا’’۔بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر ن لیگ کو حمایت کرنی تھی تو پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا کیوں ضروری نہ سمجھا گیا۔ لگتا یوں ہے کہ ن لیگ کی جانب سے سب سے پہلے غیر مشروط حمایت کا اعلان دراصل اقتدار کے اعلیٰ سطحی حلقوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے جس کیلئے ن لیگ کے صدر شہباز شریف’ خواجہ آصف اور رانا تنویر حسین بہت دنوں سے سرگرم تھے لہٰذ ااب کنفیوژن کے خاتمہ کی ذمہ داری بھی ان پر ہے کیونکہ باوجود اس امر کے کہ فوج کے سربراہ کے حوالے سے آئینی ترمیم وقت کی ضرورت تھی لیکن ان کی جانب سے عجلت اور غیر مشروط حمایت کے عمل نے خود ن لیگ کو ایک گرداب میں پھنسا کر رکھ دیا ۔ ابھی تو غیر مشروط حمایت کے اعلان کے بعد پارٹی کے قائد نواز شریف کی جانب سے آنے والے مکتوب اور اس میں آئینی ترمیم کے طے شدہ عمل پر گامزن ہونے کی ہدایت سے کسی حد تک نقصان کی تلافی ہوئی ہے اور جمعہ کے روز ترمیم کی منظوری کی بجائے اس عمل کا پیر منگل اور بدھ تک چلے جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کم از کم ن لیگ کی کسی حد تک فیس سیونگ کر دی گئی ہے ۔ بلاول بھٹو کا اعتراض اس بات پرہے کہ ن لیگ نے پہلے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیوں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں