جنرل سلیمانی کا قتل : ایران امریکہ سے کس نوعیت کا بدلہ لے گا ؟ نامور صحافی نے پیشگوئی کردی

لاہور (ویب ڈیسک) امریکی ڈرون نے بغداد ایئر پورٹ سے گاڑی میں روانہ ہونے والے ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا۔ عراق میں چند روز قبل امریکی سفارت خانے پر دھاوے کے بعد امریکی کارروائی کا خدشہ تھا لیکن اس سے پہلے خلیج میں اپنے ایک جدید ڈرون کی

نامور کالم نگار اشرف شریف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ایران کے ہاتھوں تباہی کے بعد تلملاتے امریکہ سے اس قدر بڑی کارروائی کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ جنرل قاسم سلیمانی 1998ء سے تادم موت القدس فورس کے سربراہ رہے۔ یہ فورس ایرانی سرزمین سے باہر فوجی کارروائی اور خفیہ آپریشنز کے لئے معروف ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی نے عراق ایران جنگ کے دوران ایرانی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 41ویں ڈویژن کی کمان سنبھالی۔ بعدازاں انہیں صدام مخالف شیعہ اور کرد گروہوں کو عراق میں مدد کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔ یہ کردار مزید پھیلا اور جنرل قاسم سلیمانی نے لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین کی حماس سے رابطے مضبوط کر لئے۔ 2012ء میں جنرل سلیمانی کو ایران کی اتحادی شامی حکومت کی مدد کا کام بھی سونپ دیا گیا۔ انہوں نے داعش اور اس کے ذیلی گروپوں کے خلاف شام میں بھر پور کارروائیاں کیں۔ جنرل سلیمانی وہی کردار ہیں جنہوں نے 2014-15ء میں عراق میں داعش کے خلاف مشترکہ دستوں کو مدد فراہم کی۔ قاسم سلیمانی کے ساتھ عراق میں القدس فورس کے سربراہ اور چند دیگر افراد بھی مارے گئے۔ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کی خبر آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عموماً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ہوتا ہے۔جیسے آرامکو پر حملے کے وقت خدشہ پیدا ہوا تھا۔ برطانوی ماہرِ معاشیات جیسن ٹووے کے مطابق ہر چیز کا انحصار ایران کے ردِعمل پر ہوگا۔ خدشات ہیں کہ

اس پیش رفت سے خطے میں تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔اس وقت پوری دنیا کی توجہ عراق پر مرکوز ہے اور سب یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ جس ملک کی سرزمین پر یہ حملہ ہوا ہے ان کا ردعمل کیا ہو گا۔عراق کا سرکاری موقف ہے کہ امریکی کارروائی اس کی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ ہے۔ دوسری جانب عراقی مہدی ملیشیا کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ ’قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانا جہاد کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے لیکن یہ ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرے گا۔انھوں نے اپنے پیروکاروں کو عراق کی حفاظت کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی کی۔تاہم مشرقِ وسطی کے دیگر ممالک جیسے کہ قطر، سعودی عرب اور مصر کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ لبنانی گروہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانا دنیا بھر میں پھیلے تمام جنگجوؤں کا فرض ہے۔تاہم شام کی جانب سے سامنے آنے والے ردِ عمل میں اس حملے کو ’بزدلانہ کارروائی‘ قرار دیا گیا ہے۔برطانوی دفترِ خارجہ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ہم نے ہمیشہ سے قاسم سلیمانی کی سربراہی میں ایرانی القدس فورس کی جانب سے جارحیت کے خطرے کو مدِ نظر رکھا ہے۔’ ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آج اسرائیلیوں اور امریکیوں نے تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے

ایک جرم کر دیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ابھی غم کی حالت میں ہیں لیکن ’غاصب، صیہونی امریکہ سے بدلہ لینے کا عظم بہت مضبوط ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘امریکیوں اور صیہونیوں کی وقتی خوشی بہت جلد غم میں تبدیل ہو جائے گی۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی تعلقات میں جارحیت کی مسلسل مخالفت کی ہے۔‘روس کے دفترِ خارجہ نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ‘امریکی حملے کے باعث سلیمانی کی ہلاکت کو ایک غیر محتاط قدم کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے پورے خطے میں تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔’ مشرق وسطی پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اور مصنف ولی نصر کے مطابق جنرل سلیمانی خطے میں کافی مقبول تھے اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران پر جوابی کارروائی کرنے کے لیے کافی دباؤ ہوگا۔ایران میں بڑھتی کشیدگی امریکہ کے لیے کسی بھی دوسری جنگ سے مختلف ہو گی۔ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہ خطے میں اور اقوام عالم میں سویلین اور خارجہ امور سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کے علاوہ بحری جہازوں، پائپ لائنز، دیگر تنصیبات اور سائبر حملوں کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔’ سوشل میڈیا پر جہاں اس حملے کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے، وہیں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ کیا اس امریکی اقدام کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ جائیں گے اور کیا یہ کشیدگی تیسری عالمی جنگِ کا پیش خیمہ تو ثابت نہیں ہو گی۔

امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے سلیمانی کی ہلاکت ‘بڑی، دانستہ اور خطرناک کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔”صدر ٹرمپ نے امریکی افواج سمیت خطے میں موجود عام لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دی ہیں۔ ہم اس کشیدگی کو فوراً ختم کرنا ہو گا۔’دوسری جانب کتاب ‘دی شیڈو وار’ کے مصنف اور کالم نگار جیمز شیوٹو کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران حالیہ کشیدگی کے باعث آمنے سامنے آتے ہیں تو یہ امریکہ کے لیے کسی کسی بھی دوسری جنگ سے مختلف ہو گی۔ امریکہ نے اسرائیل‘ عربوں اور اپنے مفادات کے لئے خطرہ بننے والے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر کے ایران کا ایک سٹریٹجک اثاثہ تباہ کیا ہے۔ پورے مشرق وسطیٰ میں جنرل قاسم کے عسکری رابطے اگر متحرک ہو کر ردعمل دیتے ہیں تو یہ صورت حال ایک نئے جنگی بحران کا آغاز ہو سکتی ہے۔ ردعمل سے جنم لینے والے خطرے کا حجم ہی دراصل تمام فریقوں کو صبرو تحمل پر قائل کر سکتا ہے وگرنہ امریکہ نے امن پسند دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ وہ کسی عالمی ضابطے اور قانون کا پابند نہیں۔ابوظہبی کے حکمران کا حالیہ دورہ بعض حلقوں کے مطابق نئے حالات سے ہم آہنگ سفارتی مہم تھی۔ پاکستان کے لئے نئی آگ سے دامن بچانے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں