کم عمر یتیم لڑکیوں کی زبردستی شادیاں ، یہ کیا کہانی ہے ؟ سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ ہوم افشاں لطیف کےانکشافات

لاہور(ویب ڈیسک) کاشانہ ویلفیئر ہوم کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار ہونے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے اس مسئلے کو سیاسی طور پر الجھایا جا رہا ہے ،نویں اور دسویں جماعت کی 25کم عمر بچیوں کی شادیاں کرائی گئیں لیکن بطور انچارج میرے پاس کوئی ریکارڈ

نہیں تھا اور اس کے ذمہ دار اجمل چیمہ ہیں ،چیئرمین سی ایم آئی ٹی کو شکایت لکھی کہ ندیم وڑائچ یتیم بچیوں کو ہراساں کر رہا ہے ، سیکرٹری نے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا بلکہ چارج شیٹ کرکے مجھے نوکری سے برخاست کر دیا گیا ۔پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 16اگست کو مجھے غیر ذمہ دارانہ رویے کا الزم لگا کر چیئرمین سی ایم آئی ٹی کی سفارش پر معطل کیاگیا ،17اگست کو وزیر اعلی کی فیملی کو اچانک دورہ کروایا گیا جس کے بعد افشاں کرن کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ،سرکاری گاڑی میں 9 بچیوں کو غائب کیاگیا ہے ،واقعہ میں اجمل چیمہ براہ راست ملوث ہے اور بیشک سی سی ٹی وی کیمرے چیک کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ نویں اوردسویں جماعت کی بچیوں کی شادیاں کرنی کی تیاریاں تھیں ،سب معاملات کے اجمل چیمہ ذمہ دار ہیں ، پچیس کم عمر لڑکیوں کی شادیاں کروائی گئیں لیکن مجھے کوئی ریکارڈ نہیں ملا ،میں نے ابھی تک کوئی شادی نہیں کروائی ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شوہر ن لیگ میں رہے لیکن 2013 میں پارٹی چھوڑ دی تھی کیونکہ پارٹی پالیسی سے اختلاف رہا، میرا (ن) لیگ سے کوئی رابطہ نہیں اس مسئلے کو جان بوجھ کر سیاسی بنا کر الجھایا جارہا ہے ،تحقیقات کروائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں،سابقہ سپرنٹنڈنٹ صوفیہ شاہد جانتی ہیں کہ بچیوں کی شادی کہاں کروائی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں