نہ زمین کانپی نہ آسمان پھٹا۔۔۔ پتوکی میں پانچ سالہ بچے کو قتل کرنے والا کون نکلا؟ نام آپ کے سارے اندازے غلط ثابت کر دے گا

پتوکی(ویب ڈیسک) پتوکی میں پانچ سالہ بچے کے اغوا کا ڈرامہ رچانے والا قاتل باپ نکلا‘ بچے کی لاش نواحی علاقے سر سنگھ سے گہرے گھڑوں سے برآمد-پتوکی ڈی پی اوقصور زاہد نواز مروت کی خصوصی ہدایت پر گذشتہ روز اغواء ہونے والے پانچ سالہ بچے احسن کو بازیاب کروانے کے لئے ایس ایچ او تھانہ سٹی

پتوکی پولیس نصراللہ بھٹی کو ٹاسک دیا گیا تھا-پتوکی تھانہ سٹی پتوکی پولیس ایس ایچ او نصراللہ بھٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طوطل ملانوالہ بائی پاس پتوکی کے رہائشی غلام محی الدین نے اپنے پانچ سالہ بچے احسن کے اغواء کی اطلاع تھانہ سٹی پتوکی کو دی جس پر پولیس نے اپنی کاروائی تیز کردی پولیس نے بچے کے باپ کا ڈرامہ بے نقاب کر کے بچے کی لاش نواحی علاقہ سرسنگھ کے گہرے گھڑوں سے برآمد کرکے باپ کو گرفتار کر لیا ملزم باپ نے اپنے بچے کو قتل کرنے کے بعد بچے کی لاش سر سنگھ کے گہرے گڑوں میں پھینک دی تھی پولیس نے ملزم سے مزید تحقیقات شروع کردی -پتوکی پولیس ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ بچے کا والد ڈپریشن کا شکار تھا – جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق حکومت نے پلان بی کو ناکام بنانے کے لیے جے یو آئی ف کے مدرسوں کی نگرانی شروع کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام(ف) کی جانب سے پلان بی کے تحت دن کے اوقات میں مختلف شہروں کی شاہراہوں پر دھرنے چوتھے روز اتوارکو بھی جاری رہے ۔کارکنان نے حب ریور روڈ بند کر دیا ہے۔ سندھ، بلوچستان کے درمیان دھرنے کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت بند ہو گئی ہے، شہری سڑک پر پھنس گئے ہیں، کوئٹہ چمن شاہراہ اور سکھر میں بھی قومی شاہراہ بلاک کر دی گئی ہے جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔کندھکوٹ میں بھی جے یو آئی کے کارکنان نے انڈس ہائی وے پر دھرنادیا، جس سے ٹریفک معطل ہے، گھوٹکی میں بھی جے یو آئی کا قومی شاہراہ پر دھرنا چوتھے روز میں داخل ہوگیا ہے جبکہ سکھر میں ٹھیڑی بائی پاس پر دھرنا دیا گیا ہے، قومی شاہراہ بلاک ہوگئی اور گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں جس کے بعد اب پولیس نے پنجاب بھر کے مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں اور عملے کی نگرانی شروع کردی، مدرسوں کے سرپرستوں کی بھی مانیٹر جاری ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے تمام پولیس افسران کو مدرسوں میں ہونے والی سرگرمیوں سے اپدیٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جمیعتِ علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنا ختم کرنے کے بعد پلان بی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مختلف شہروں میں احتجاج اور دھرنے دیے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں