لاہور میں نوجوان لڑکی قتل، وجہ ایسی کہ آپ کو بھی افسوس ہو گا

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور میں ڈیفنس کے نواحی گاؤں میں زمین کے تنازع پر ایک گروپ نے فائرنگ کر کے ایک لڑکی کو قتل اور 2 خواتین سمیت 4 افراد کو زخمی کر دیا۔پولیس کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی کے علاقے برکی روڈ پر نور بخش چالار گاؤں میں زمین کے تنازع پر ایک گروپ کے ارشد کمبوہ اور

اس کے ساتھیوں نے مخالف گروپ کے رفیق مسیح کے گھر پر دھاوا بول دی۔فائرنگ کے نتیجے میں 18 سالہ لڑکی سونیا موقع پر جاں بحق ہو گئی جبکہ دیگر 4 افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں آسیہ، شہناز، نذیر مسیح اور رفیق مسیح شامل ہیں۔زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ڈیڈ ہاؤس منتقل کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق حکومت نے پلان بی کو ناکام بنانے کے لیے جے یو آئی ف کے مدرسوں کی نگرانی شروع کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام(ف) کی جانب سے پلان بی کے تحت دن کے اوقات میں مختلف شہروں کی شاہراہوں پر دھرنے چوتھے روز اتوارکو بھی جاری رہے ۔کارکنان نے حب ریور روڈ بند کر دیا ہے۔ سندھ، بلوچستان کے درمیان دھرنے کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت بند ہو گئی ہے، شہری سڑک پر پھنس گئے ہیں، کوئٹہ چمن شاہراہ اور سکھر میں بھی قومی شاہراہ بلاک کر دی گئی ہے جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔کندھکوٹ میں بھی جے یو آئی کے کارکنان نے انڈس ہائی وے پر دھرنادیا، جس سے ٹریفک معطل ہے، گھوٹکی میں بھی جے یو آئی کا قومی شاہراہ پر دھرنا چوتھے روز میں داخل ہوگیا ہے جبکہ سکھر میں ٹھیڑی بائی پاس پر دھرنا دیا گیا ہے، قومی شاہراہ بلاک ہوگئی اور گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں جس کے بعد اب پولیس نے پنجاب بھر کے مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں اور عملے کی نگرانی شروع کردی، مدرسوں کے سرپرستوں کی بھی مانیٹر جاری ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کے تمام پولیس افسران کو مدرسوں میں ہونے والی سرگرمیوں سے اپدیٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جمیعتِ علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنا ختم کرنے کے بعد پلان بی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مختلف شہروں میں احتجاج اور دھرنے دیے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں