ایک بات پوچھوں مارو گے تو نہیں۔۔۔۔!!! سید علی گیلانی کا عمران خان کے نام خط، بدلے میں پاکستانی سرکار نے کیا کر دکھایا؟ حامد میر کے انکشاف نے پاکستانیوں کو افسردہ کر دیا

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ روز سینئر حریت رہنماء سید علی گیلانی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے نام ایک خط لکھا گیا جس میں سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ ’’ ہو سکتا ہے کہ یہ میرا آخری خط ہو، اب میری صحت تیزی سے ببگڑتی جارہی ہے، بھارت نے اقوام

متحدہ کی تما قرادادوں کی خلاف ورزی کی ہے، کشمیر خواتین کو ابھی تک ہراساں کیا جارہا ہے، لوگوں کو نوٹسز موصول ہو رہے ہیں کہ انہیں گھروں سے بے دخل کر دیا جائے گا، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی بھارت کے ساتھ کیے جانے والے تمام معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دے ، اکستان دو طرفہ معاہدوں شملہ، تاشقند اور لاہور معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرے، ایل او سی پرمعاہدے کے تحت باڑ لگانے کے معاہدے کو بھی ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے جب کہ حکومت پاکستان ان سارے فیصلوں کو لے کر اقوام متحدہ بھی جائے ‘‘۔ سید علی گیلانی کے بعد ابب خبر یہ سامنے آئی ہے کہ پاکستانی حکومت نے سید علی گیلانی کی درخواست پر عملدرآمد کرنے کی بجائے پاکستان میں قید بھارتی دہشتگرد و جاسوس کلبھوشن یادیو کو کونسلر رسائی دینے کے لیے آرمی ایکٹ میں ببھی تبدیلی لانے کا عندیہ دے دیا ہے، جس پر سینئر صحافی حامد میر بھی میدان میں آگئے اور ایسی بات کہہ دی کہ پاکستان پر حکومت کرنے والے بھی سوچ میں پڑ گئے، سینئر صحافی حامد میر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’’ ایک بات پوچھوں مارو گے تو نہیں؟سید علی گیلانی خط لکھ رہے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ شملہ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرو لیکن یہاں تو کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے کے لئے آرمی ایکٹ بدلا جا رہا ہے یہ ریلیف کلبھوشن کو دیا جا رہا ہے یا مودی کو؟مودی نے ابھی تک کشمیریوں کو کیا ریلیف دیا ہے؟‘‘حامد میر کے اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصروں کا آغاز ہوگیا ہے اور ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں